وفاقی حکومت نے انٹر نیٹ کی سست رفتاری کا ملبہ وی پی این پر ڈال دیا
اسلام آباد (این این آئی)وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ بند کیا گیا نہ ہی اس کی رفتار سست کی گئی، ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اس کی رفتار متاثر ہوئی، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے، تمام تر معاشی مشکلات کے باوجود آئی ٹی شعبے کے مطالبات پورے کیے گئے اور اس کے لیے 60 ارب کا بجٹ مختص کیا گیا، اے آئی پالیسی بہت جلد منظر عام پر آئے گی، سیمی کنڈیکٹر کی پالیسی پر بھی کام کیا جارہا ہے، 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی بہت جلد ہوگی، انٹرنیٹ کو بہتر بنانے کے لیے 4 نئی کیبلز لائی جا رہی ہیں، جب کیبلز آجائیں گی تو پاکستان میں انٹرنیٹ معیاری سطح پر ملے گا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ آج کی میڈیا ٹاک کا مقصد حکومت نے آئی ٹی کے حوالہ سے کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ آئی ٹی برآمدات ہوئیں، گزشتہ مالی سال برآمدات کا حجم 2.6 ارب ڈالر تھا تاہم رواں سال برآمدات کا حجم 3.2 ارب ڈالر سے زائد رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ پر پوری قوم کو مبارکباد دیتی ہوں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ میں تمام نوجوانوں، بچوں اور بچیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے اپنی محنت اور کاوشوں سے اس ہدف کو ممکن بنایا، حکومتی اقدامات کی وجہ سے یہ ہدف پورا ہو سکا ہے، آپ کو اس حوالہ سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں۔


