حب میں غیر معیاری کوکنگ آئل ،گھی کی فروخت ،انتظامیہ غائب
حب(نمائندہ انتخاب)حب شہر میں جعلی اور غیر معیاری کھلے کنگ آئل کی سرعام فروخت جاری جعلی کوکنگ آئل کراچی سے گاڑیوں میں بھر کر لایا جاتا ہے متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران کی کاروائیاں محض فوٹو سیشن اور معاملات طے کرنے تک محدود ہیں میڈیا پر خبریں آنے سے رشوت کے ریٹ بڑھ جاتے ہیں غیر قانونی کاروبار میں ملوث بیوپاریوں کا موقف فوڈ کنٹرول اتھارٹی کے حکام نے مضر صحت کینسر کاباعث بننے والے گٹکے اور جعلی اشیاء کے کارخانوں اور دکانوں پر چھاپہ مار کاروائیاں کی جاتی ہیںلیکن اتھارٹی حکام کے جانے کے دوسرے دن ہی کارخانہ پھر سے آباد ہوجاتے ہیں جعلی منرل واٹر بنانے کے کارخانے بھی دھرے سے چلائے جارہے ہیں کوئی پُرسان حال نہیں اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں جعلی اور غیر معیاری کوکنگ آئل جو کہ ذرائع کے مطابق جانوروں کی چربی اور ہڈیاں پگھلا کر تیار کیا جاتا ہے کی حب شہر میں عرصہ دراز سے فروخت اور خرید کا سلسلہ چل رہا ہے اس بابت حب میں قائم مختلف صوبائی وفاقی اور ضلعی سطح کے سرکاری محکموں کے افسران کی کاروائیاں بھی سامنے آئیں لیکن مذکورہ کاروبار کی روک تھام نہ ہوسکی ہے جو کہ متعلقہ سرکاری محکموں کی محض فوٹو سیشن کاروائیوں کا منہ بولتا ثبوت اور ملی بھگت کا شاخسانہ ہے بتایا جاتا ہے کہ جعلی کوکنگ آئل کراچی سے گاڑیوں میں بھر کر لایا جاتا ہے اور حب شہر کے مختلف علاقو ں میں قائم گوداموں میں ذخیرہ کرنے کے بعد بازار کے دکانوں پرسر عام کھلا جعلی کوکنگ آئل فروخت کیا جاتا ہے جعلی اور کھلے کوکنگ آئل کی تیاری اور فروخت پر حکومت کی جانب سے سخت پابندی کا اطلاق ہے لیکن شہر نا پرسان حال میں یہ کاروبار متعلقہ سرکاری محکموں کی آنکھ اور ناک کے نیچے کھلے عام چل رہا ہے اس بارے میں مذکورہ کاروبار سے وابستہ بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ میڈیا پر خبریں آنے سے کچھ نہیں ہوتا صرف رشوت کے ریٹ بڑھ جاتے ہیں اسی طرح سے فوڈ کنٹرول اتھارٹی کی ایک ٹیم نے حب شہر میں ساکران روڈ پر گلیکسی ٹائون کے قریب مضر صحت گٹکا جو کہ منہ کے کینسر جیسے موذی مرض کا سبب بنتا ہے کے کارخانے پر چھاپہ مار کر کارخانے میں موجود گٹکا تیار کرنے کا سامان اور مشینری ضبط کرلی گئی تھی لیکن مذکورہ اتھارٹی کے افسران کے واپس جانے کے دوسرے دن ہی مذکورہ کارخانہ پھر سے آباد ہو گیا اور آج بھی اسی کارخانے کا مضر صحت گٹکا نہ صرف حب بلکہ ضلع لسبیلہ کراچی اور اندرون بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فروخت کیا جارہا ہے جبکہ حب شہر میں منرل واٹر کے نام پر مضر صحت پانی کی فروخت بھی دھرے سے جاری ہے ۔


