بلوچستان حکومت سیلاب سے زدہ علاقوں میں متاثرین کی امداد کرے، سماجی کارکن

کوئٹہ(یو این اے )سماجی ورکر حمیدہ نور بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مون سون کی وجہ سے سیلاب متاثرین انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہیں جنہیں بروقت امداد پہنچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے صوبائی حکومت کے غیر سنجیدگی اور دیر پا اقدامات اٹھائے جانے کی وجہ سے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے وزیر اعظم شہباز شریف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اس اہم مسئلہ کی طرف خصوصی توجہ دے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر انور بلوچ غلام محمد بلوچ اور دیگر بھی موجود تھے حمیدہ نور کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اس وقت دنیا اور اس سے پیدا ہونے والی آفات سے نمٹ رہی ہے لیکن اس حقیقت سے پاکستان جیسے ملک میں نہایت ہی غیر سنجیدگی سے لیا جاتا ہے جس کے کئی اہم اسباب ہے جن میں نچلی سطح پر حد درجہ ناخواندگی اور عام لوگوں کی جہالتوں کی حد تک لا علمی جبکہ حکومتی سطح پر ناقص منصوبہ بندی اقرا پروری زیادہ سے زیادہ بینک بیلنس بڑھانے کی ہوس نا اہل لوگوں کا اقتدار پر قابض رہنا بھی شامل ہے جس کے پیش نظر ہر سال آنے والی قدرتی آفات سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں زندگیاں قیمتی املاک زرخیز زمینیں اور فصلیں داو پر لگی رہتی ہے یہاں ہم بلوچستان جیسے خطے کو دیکھیں و جغرافیائی لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے کئی بڑے پیمانے پر صوبہ میں قدرتی آفات کا تسلسل نظر آتا ہے جس طرح کے زلزلے قحط سالی سونامی سیلابی تباہ کاروں جیسے آفات سر فہرست ہیں آج قدرتی آفت کو میڈیا کے ذریعے حکام بالا تک پہنچانا چاہتے ہیں پورے بلوچستان خاص طور پر نصیر آباد ڈیویژن سبی ڈیویژن کے ساتھ ساتھ قلات ڈیویژن ہر سال غیر معمولی بارشوں سے متاثر ہیں ا س سے بڑھ کر ان اضلاع میں سیلابی ریلیوں کی وجہ سے نقصانات بڑھ رہے ہیں ان اضلاع میں گرین بیلٹ مخصوص اضلاع صحبت پور جعفر آباد نصیر آباد اوستہ محمد جھل مگسی سبی کچی گرین بیلٹ کے طور پر جانے جاتے ہیں سیلاب سے متاثر ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے سیلابی تباہی ان کے مقدر میں لکھ دی جاچکی ہے یہ علاقے 2010کے سیلاب کے بعد دوسرے سال سیلاب سے متاثر ہورہے ہیں اور یہ علاقے نہری نظام کی وجہ سے زراعت مال مویشی پر انحصار کرتے ہیں ان علاقوں میں آفت کی وجہ سے نہ صرف کسان معاشی طور پر بدحالی کا شکار ہیں تو وہی اناج کے کمی کے باعث مہنگائی میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے انہوں نے وزیرا عظم پاکستان شہبازشریف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی سے اپیل کی ہے کہ اس خطے کو ملک کا حصہ سمجھ کر ترقیاتی بجٹ کے بجائے نہری نظام کو موثر بنائے اور یہ خطہ بھی معاشی حوالے سے گیم چینجر بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں