کے پی میں صوبائی حکومت کا اسلام آباد جلسے کی تیاریوں کیلئے سرکاری وسائل کا بھرپور استعمال
پشاور، (انتخاب نیوز، یو این اے) خیبر پختونخوا (کے پی) میں صوبائی حکومت کی جانب سے اسلام آباد جلسے کی تیاریوں کے لیے صوبے کے سرکاری وسائل کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود آج ترنول اسلام آباد میں ہر صورت جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا تھا جبکہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے بھی پی ٹی آئی کا جلسہ روکنے کے لیے جگہ جگہ کنٹینر لگا کر راستے بلاک کر دیے گئے تھے۔ بعد ازاں جمعرات کو تحریک انصاف نے ترنول میں شیڈول جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ دوسری جانب جلسہ ملتوی ہونے کی وجہ سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تمام تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ علاوہ ازیں اسلام آباد جلسہ منسوخی پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں میں 5،5 ہزار روپے تقسیم کیے گئے۔ پاکستان تحریک انصاف نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود آج ترنول میں ہر صورت جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا تھا جبکہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے بھی پی ٹی آئی کا جلسہ روکنے کے لیے جگہ جگہ کنٹینر لگا کر راستے بلاک کر دیے گئے تھے۔بعد ازاں جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف نے ترنول میں شیڈول جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔جلسہ منسوخی پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں میں 5،5 ہزار روپے تقسیم کیے گئے۔وزیراعلی علی امین گنڈا پور نے صوابی پہنچ کر کارکنوں اور گاڑیوں کے ڈرائیوروں میں 5،5 ہزار روپے تقسیم کیے۔اس موقع پر شبلی فراز اور عمر ایوب بھی موجود تھے ۔ مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹرسیف کا کہنا ہے کہ کارکنوں میں پیسوں کی تقسیم کی کوئی بڑی وجہ نہیں، وزیراعلی کے پی غریبوں کے ہمدرد ہیں۔ انہوں نے اپنی جیب سے پیسے تقسیم کیے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی خیبرپختونخوا ہر حال میں جلسہ کرنا چاہتے تھے، علی امین اور اسد قیصر میں طے پایا تھا کہ اسلام آباد ہر حال میں جانا ہے۔ دوسری جانب اب اسلام آباد کی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو 8 ستمبر کو جلسہ کرنے کی اجازت دے دی، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔


