آئین و قانون نام کی شے حکومتی نااہلی کی وجہ سے ختم ہورہی ہے، بلوچستان بار ایسوسی ایشن
کوئٹہ ( آئی این پی ) بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد افضل حریفال ایڈووکیٹ اور کابینہ نے حالیہ واقعات میں بے گناہ افراد کے قتل و عام لوگوں کے املاک کونقصان پہنچانے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کیوں ناکامی سے دوچار ہوجاتے ہیں؟ کروڑوں روپے فنڈز امن وامان کے نام پر رکھنے کے باوجود صورتحال خراب تر ہورہی ہے ،اپنے فرائض میں ناکام ہونے والوں کااحتساب ہوناچاہیے ۔اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی کابینہ نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پیش آنے والے واقعات میں بے گناہ افراد کے قتل اور عوام کے ذاتی املاک کو نقصان پہنچانے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں ہر سال امن وامان کے نام پر کروڑوں روپے رکھے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود صوبے میں امن وامان بحال ہونے کانام نہیں لے رہا آئے روز بے گناہ افراد نشانہ بنائے جاتے ہیں ،آئین وقانون نام کی شے حکومتی نااہلی کی وجہ سے ختم ہورہی ہے ،امن وامان کا قیام سیکورٹی فورسز کاکام ہے لیکن یہاں سیکورٹی فورسز کی جانب سے اپنے فرائض میں ناکامی سوالیہ نشان ہے ؟انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں کروڑوں روپے فنڈ ز امن کے نام پر رکھنے کے باوجود صوبے کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے لوگ ذہنی مریض بن کر رہ گئے ،بے گناہ افراد چاہے ان کا تعلق کسی بھی صوبے ،قوم سے ہوں کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ناحق قتل کریں نہ ہی انسانیت اس عمل کی اجازت دیتاہے ،بلوچستان ہائی کورٹ بار وفاقی وصوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والوں سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں اور بے گناہ افراد کو اس آگ کے ایندھن سے بچائیں تاکہ لوگ سکھ کاسانس لے سکیں ۔وہ علاقے جو پرامن تھے اب وہاں ایسے واقعات کا رونما ہونا سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔


