ٹیلی کام کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید نہ ہوئی تو آپریشنز بند کرنا پڑسکتے ہیں، پی ٹی اے

اسلام آباد (آئی این پی ) چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر )حفیظ الرحمان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی اینڈٹیلی کام کو بتایا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید نہ ہوئی تو آپریشنز بند کرنا پڑسکتے ہیں، کمپنیوں کے آپریشنز بند ہونے سے نیٹ ورک پر بہت اثر پڑے گا ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی اینڈٹیلی کام کا اجلاس سینیٹرپلوشہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)میجر جنرل (ر ) حفیظ الرحمان نے اجلاس کوبریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 5ایل ڈی آئی کمپنیاں واجبات اداکرنے کوتیار ہیں، کچھ ایل ڈی آئی کمپنیوں نے عدالت میں کیس دائرکررکھے ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ایل ڈی آئی کمپنیوںکے لائسنس جولائی،اگست میں ختم ہورہے تھے، واجبات کی قسطوں میں ادائیگی چاہتے تھے ، سابق سیکرٹری آئی ٹی نے پالیسی ڈائریکٹو جاری کیا جو ان کا استحقاق نہیں تھا۔ سینیٹرانوشہ رحمان نے سوال کیا کہ کیا 15ایل ڈی آئی کمپنیوں کی آپٹیکل فائبرکیبل ہے ہی نہیں؟ 4 ایل ڈی آئی کمپنیاں بہت متحرک ہیں،جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ عدالت میں 15 کیسزچل رہے ہیں۔اجلاس میں وزارت آئی ٹی کے افسران نے ایل ڈی آئی ٹیلی کام کمپنیوں کو چون ارب روپے کی چھوٹ پرسابق سیکرٹری کے فیصلے سے لاتعلقی کا اظہارکردیا۔پلوشہ خان نے کہا کہ سابق سیکرٹری محمدمحمودکے پالیسی ڈائریکٹوکی کیاقانونی حیثیت ہے؟ ممبرلیگل نے بتایا کہ سیکرٹری آئی ٹی کی پالیسی ڈائریکٹومیں مجھے اعتمادمیں نہیں لیاگیا، میرے پاس پالیسی ڈائریکٹوکی کوئی فائل نہیں آئی، چھٹی پرتھا۔ممبر وزارت آئی ٹی وٹیلی کام کا کہنا تھا کہ وزارت آئی ٹی میں اس معاملے پرزبانی بحث ہوئی، اوپرسے دباؤتھا فائل جلدی سے آگے بھیجیں، جس پر چیئرپرسن کمیٹی پلوشہ خان نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوگیاکہاں سےدباتھا، سابق سیکرٹری آئی ٹی کانام پہلے بھی بہت سے کرپشن کیسزمیں ہے۔حکام نے کہا کہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کےلائسنس کی معیاد2024میں ختم ہورہی ہے،دیکھناچاہیے کیا مزیدایل ڈی آئی لائسنس کی ضرورت ہے یا نہیں،ایل ڈی آئی کمپنیوں نے ادائیگی نہیں روکی۔چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ 2020میں ایک ایل ڈی آئی کمپنیوں کوقسطوں پرادائیگی کی اجازت دی ، جس پر انوشہ رحمان نے سوال کیا 2020میں قسطوں پرادائیگی کی اجازت دی تواب کیوں نہیں؟ مسئلہ کاحل تلاش کریں، ایل ڈی آئی لائسنس کی تجدیدنہ ہونے سے نقصان ہوگا تو حکام نے بتایا کہ میں نے2020 میں ریلیف دیانہ اس کامجھے پتہ ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ ایک کمپنی نے رابطہ کیا ہم قسطوں میں ادائیگی کرناچاہتے ہیں جبکہ سیکرٹری آئی ٹی ٹیلی کام کا کہنا تھا کہ ہمیں اس معاملے پروفاقی حکومت سے پالیسی ڈائریکشن چاہیے۔پی ٹی اے حکام نے خبردار کیا کہ اسٹے آرڈرختم ہوتو ان کمپنیوں کے لائسنس کینسل کرسکتے ہیں، کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید نہ ہوئی تو آپریشنز بند کرنا پڑسکتے ہیں، کمپنیوں کے آپریشنز بند ہونے سے نیٹ ورک پر بہت اثر پڑے گا اور کمپنیوں کے آپریشنز بند ہوئے تو نیٹ ورکس کی بحالی پر وقت لگے گا، پی ٹی سی ایل کے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ اس کمی کو پورا کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں