ایوان میں کسی کو اظہار خیال سے نہیں روکا جا سکتا،راجہ پرویز اشرف

اسلام آباد:قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ اس ایوان میں کوئی اظہار خیال کرنا چاہے تو روکا نہیں جا سکتا،لیکن تمام اراکین کے حقوق کا تحفظ اسپیکر کی زمہ داری ہے،جو ماحول اجلاس میں ہوا یہ نہیں ہونا چاہئے تھا،اگر کسی بات پر کوئی اتفاق رائے ہوگیا تھا تو پھر اس کا احترام کرنا چاہئے تھا،اپوزیشن نے گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کی پوری تقریر سنی جس تقریر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ساری اپوزیشن کرپٹ ہے،اپنے زور بیان سے ایک بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں نیب قانون سے جان چھڑانا چاہتی ہے،اپوزیشن چاہتی ہے کہ نیب قانون ختم ہو اور ان کی جان چھوٹے،راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ابھی ہاوس میں جس انداز سے معاملات سامنے آئے اس پر افسوس ہے،جب کسی بات پر اتفاق ہو جائے تو احترام کرنا سب پر ضروری ہے،وزیر خارجہ نے تقریرمیں دوسرے کی پگڑی اچھالی۔ ہم پر الزام لگایا گیا کہ ہم نیشنل سیکیورٹی کی نہیں پرسنل سیکیورٹی کی بات کررہے ہیں،چھ ماہ سے قائمہ کمیٹی میں بل پڑا رہا کیونکہ مشیر خزانہ کے پاس وقت نہیں تھا،مشیر خزانہ کو کیا لگے آپ ایف اے ٹی ایف میں رہے یا نہ رہے،کسی کو کرپٹ کہنا عدالت کا کام ہے،اگر یہ وطیرہ جاری رہتا ہے تو باقی وقت بھی ایسے ہی گزر جائے گا،میں مان لیتا ہوں آپ ایماندار ہیں پاکستان کے عوام اور اعلی عدالت آپکو ایماندار ماننے کو تیار نہیں۔نیب کا شکار ہم 2002میں ہوئے جب نیب کے ذریعے نو ارکان کو پیٹریاٹ بنائی،کل تک مسلم لیگ ن ہمیں کہا کرتی تھی کہ سارے سکینڈل پی پی کے ہیں،پھر وقت آیا کہ مسلم لیگ ن کے سکینڈل آئے حکومت یاد رکھے کل ان کا بھی وقت آنے والا ہے،اتنے ایماندار ہیں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ تو پڑھ لیں۔ اگر حکومت کو اعتراض ہے تو سپریم کورٹ جاکر نظر ثانی کراکے آئے سپریم کورٹ نے نیب کو سیاسی انجیئرنگ کا ادارہ قرار دیا،آپ جس راستے پر گامزن ہیں آپ کی بولتی بند ہونے والی ہے،ان کے الفاظ تھے کہ اپوزیشن قومی سلامتی کی نہیں بلکہ اپنے بچا? کی بات کر رہے ہیں،راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے والوہمیں دو کروڑ گالیاں دے دولیکن دس ہزار نوکریاں تو دے دو،جون کا سارا ماہ اجلاس چلتا رہا کلبوشن بل کیوں نہ لائے۔ کلبوشن کے لئے اتنا کرنے والے کبھی ماہی گیروں کی بھی بات کرلیا کریں،عبدالکریم ماہی گیر کی آنکھیں نکلی وزیر خارجہ سے پوچھ رہی ہیں آپ پاکستان کے وزیر خارجہ ہیں یا بھارت کے وزیر خارجہ ہیں کلبوشن کلبوشن کرتے رہتی ہیں کبھی نیپال سے اغوا ہونے والے کرنل کی بھی بات کرلیا کریں۔۔۔۔۔ظفر ملک۔۔طارق ورک

اپنا تبصرہ بھیجیں