حالیہ 26 ویں ترمیم آئین کی روح کو مسخ و پارلیمنٹ کو گھر کی لونڈی بنانے کے مترادف ہے،امان اللہ کنرانی

intekhab

کوئٹہ(این این آئی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینٹر (ر)امان اللہ کنرانی نے پارلیمنٹ میں حالیہ 26 ویں ترمیم کو عدالت عظمیٰ سے متعلق شقوں کو آئین کے آرٹیکل 175،عدلیہ کی آزادی و 175-A (3) جو اسی پارلیمنٹ نے 18 ویں ترمیم کے زریعے چیف جسٹس پاکستان کی صوابدی تقرری کو ختم کرکے میرٹ سینارٹی کو شامل کیا آج وقتی تقاضوں و ضرورتوں کی بناپر اس پر حملہ کردیا گیا ہے جو دراصل آئین کی روح کو مسخ و قوم کے ساتھ مذاق پارلیمنٹ کو گھر کی لونڈی بنانے کے مترادف ہے ماضی میں یہی قوتیں آئین میں 8&17 ویں ترامیم کرکے آئین سے غداری کرچکے ہیں آج ایک بار پھر آئین کو بوٹوں تلے روندا گیا ہے حالانکہ اس سے قبل یہی حکومت ایک چیف جسٹس سندھ کے سجاد علی شاہ مرحوم کو سینئر نہ ہونے کی پاداش میں عدالتی سولی پر لٹکا کر شہید کرچکی ہے جس کی تاویل و تشریح PLD 1998 SC 161 میں موجود ہے آج پھر اسی میاں نواز شریف کی ذہنی اختراع پیپلزپارٹی نے اپنے ہی مرتب و وضع کردہ اصولوں آئینی شقوں کو بدل کر لاہور کے سید گھرانے کے سید منصور علی شاہ کو بھینٹ چڑھا دیا ہے اگرچہ ہمارے لئے تمام جج صاحبان قابل احترام و معزز ہیں مگر ھم سمجھتے ہیں اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے عدلیہ کی عزت و توقیر کو تار تار نہ کیا جائے دراصل سیاستدان ھمیشہ مارشلازکے سائے میں فیصلے کرنے کے عادی رہے ہیں ان سے گلہ نہیں ہماریعدلیہ نے بھی ہر دور میں آئین و پارلیمنٹ و جمہوریت کے ساتھ کھل واڑ کیا ہے جس میں 1955 کا مولوی تمیزالدین کیس و 1958 میں دوسو کیس اور PLD 2000 SC 869 سید ظفر علی شاہ کیس اس کی بدترین مثالیں ہیں اب پارلیمنٹ نے بھی انتقامی جذبے سے مرعوب ہوکر عدلیہ کو زیر اور طابع مرضی رکھنے کی خاطر آئین کے 26 ویں ترمیم کا سہارا لیا ہے جو قابل افسوس و ناقابل قبول و بے موقع و محل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں