ہامون ماشکیل، ہماری قبائلی ملکیت ہیں، لیتھیم الاٹمنٹ کی اجازت کسی کو نہیں دینگے، اسفندیار یار محمد زئی

دالبندین ( این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی کونسل کے ممبر ڈسڑکٹ وائس چیئرمین میر اسفندیارخان یار محمد زئی نے رکن صوبائی اسمبلی حاجی زابد علی ریکی کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک ایران سرحدی علاقے ہامون ماشکیل تک ریکی اور یار محمد زئی قبائل کے جدی پشتی زمینیں ہیں ہامون ماشکیل مشرقی شمالی علاقہ ریکی قبیلے کا جبکہ مغربی شمالی علاقہ نئے کاچر ہامون ماشکیل سے لے کر تالاب تک ہمارے جدی پشتنی ملکیت ہیں ہم حاجی زابد علی ریکی کی موقف کا مکمل حمایت کرتے ہیں ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ سرحدی علاقے ہمارے قبائل سے تعلق رکھتے ہیں ہمیں اعتماد میں لینا چایئے تھا بغیر لوکل لوگوں کے یہاں پر کسی بھی کمپنی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیا جائے گا انہوں نے کہاکہ کسی بھی کمپنی کو الاٹمنٹ سے قبل علاقائی لوکل لوگوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے نیا کاچر آموں ماشکیل تک ہماری ملکیت ہیں ہم کسی بھی باہر کے کمپنی کو الاٹمنٹ کرنے کی اجازت نہیں دینگے یہ زمینیں ہماری پدری اور جدی ملکیت ہیں جس کی الاٹمنٹ لوکل لوگوں کا ہونا چایئے باہر کے لوگوں کو الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہیں ہے اگر الاٹمنٹ فوری طور پر ختم نہ کی گئی تو ہم ریکی قبائل کے ساتھ ملکر بھر پور اس کی مخالفت کرینگے اور تمام قانونی راستے اختیار کرینگے انھوں نے کہاکہ آموں ماشکیل میں، لیتھیم کے الاٹمنٹ مقامی لوگوں کا ہے باہر کے لوگوں کو الاٹمنٹ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے اگر الاٹمنٹ فوری طور پر منسوخ نہ کی گئی تو ہم ریکی قبائل کے ساتھ ملکر کسی بھی کمپنی کو کام کرنے نہیں دینگے شنید میں آیا ہے آمون ماشکیل کو، لیتھیم کیمیکل کے لئے دو باہر کے کمپنیوں کو الاٹمنٹ دی گئی ہیں جن میں ایک تعلق پنڈی اور ایک کا کراچی سے ہیں نہ کسی مقامی کمپنی نہ مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیا ہے انھیں فوری طور پر منسوخ کیا جائے بصورت دیگر ہم کسی صورت باہر کمپنیوں کو کام کرنے نہیں دینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں