پبلک سروس کمیشن، امتحانا ت میں ٹیکنالوجی سے استفادہ، انٹرویوز میں غیر ضروری سوالات سے گریزضروری ہے، گورنر
کوئٹہ 7 اگست: گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا ہے کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے تحت منعقد ہونے والے امتحانات میں شفافیت کو یقینی بنانے اور خاص کر سرکاری اداروں میں بھرتی کے عمل میں اعلیٰ معیار کی پاسداری سے ہی قابل اور مستحق امیدواروں کو آگے لائے جاسکتے ہیں. گورنر یاسین زئی نے کہا کہ یہ بھی کسی المیہ سے کم نہیں ہے کہ کہ ہماری موجودہ پڑھی لکھی آبادی بھی بیروزگاری کا شکار ہے جن میں ڈاکٹرز اور انجینئرز جیسے پیشہ ور تعلیم یافتہ نوجوان بھی شامل ہیں. ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز گورنرہاوس کوئٹہ میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین عبدالسالک خان درانی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ امتحانات کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنے، جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات سے استفادہ کرنے اور بالخصوص انٹرویو میں غیرضروری اور غیرمتعلق سوالات سے اجتناب کرنا اشد ضروری ہے. انہوں نے کہا کہ پبلک سروس کمیشن جیسے ادارے صوبے بھر کے ذہین اور محنتی طلباء وطالبات کیلئے امید کی کرن ہیں. اس ضمن میں مستحق اور حقدار امیدواروں کو اپنے حق کے حصول کیلئے راہ ہموار کرنا پبلک سروس کمیشن کے ممبران کے فرائض میں شامل ہیں. لہٰذا ضروری ہے کہ تمام ممبران ہر قسم کے امتیازات سے بالاتر ہوکر اپنے فرائض منصبی کو پوری دیانتداری اور دلچسپی سے سرانجام دیں تاکہ کوئی بھی امیدوار کسی قسم کی جانبداری اور تعصب کا شکار نہ ہوں. انہوں نے کہا کہ بلوچستان جیسے صوبہ کیلئے اہلیت، صلاحیت اور قابلیت کے حامل آفیسروں کی اشد ضرورت ہے اسلئے آفیسروں کے انتخاب کے نظام کو مزید بہتر اور معیاری بنانا لازمی ہے. اس سے نہ صرف قومی اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ ہماری مجموعی ترقی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے.


