پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہے،کمرشل اتاشی افغان قونصلیٹ

پاسپورٹ کی شرط پاکستان کی عائد کردہ ،ہم اب بھی شناختی کارڈ اور تذکیرہ پر ہر آمد و رفت کی سہولت دینے کو تیار ہیں،کمرشل اتاشی افغان قونصلیٹ

کو ئٹہ( آئی این پی)افغان قونصلیٹ کے کمرشل اتاشی ڈاکٹر عبد الحنان ہمت نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہے، پاکستانی سرمایہ کار افغانستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقعوں سے مستفید ہونے کیلئے آگے بڑھے ہم انہیں جان و مال کے تحفظ سمیت تمام تر سہولیات دیں گے،دونوں برادر اسلامی ممالک کی بزنس کمیونٹی کو تجارت سے سیاست کو الگ کرنا ہوگا،بارڈرز پر پاسپورٹ کی شرط پاکستان کی عائد کردہ ہے ہم اب بھی شناختی کارڈ اور تذکیرہ پر ہر آمد و رفت کی سہولت دینے کو تیار ہیں،پاک افغان بادینی بزنس گیٹ کو دوبارہ کھولنے کیلئے اعلیٰ سطح پر اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر افغانستان کے وزیر برائے مہاجرین مولانا خلیل الرحمٰن حقانی کی درجات بلندی کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔اس سے قبل افغان قونصلیٹ کے کمرشل اتاشی ڈاکٹر عبد الحنان ہمت چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان پہنچے تو چیمبر کے صدر محمد ایوب مریانی،سنیئر نائب صدر حاجی اختر کاکڑ ودیگر نے انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دو ہمسائیہ برادر اسلامی ممالک ہیں جنہیں سرحد کے دونوں پار آباد شہریوں کی فلاح و بہبود اور باعزت روزگار کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی بارڈر کی بندش اور کشیدگی کے حق میں نہیں ہم چاہتے ہیں کہ چمن پر آمد و رفت سہل ہو اس مقصد کیلئے ہم تجویز کرتے ہیں کہ پاک افغان بارڈر کے دونوں طرف کے قریبی اضلاع کے لوگوں کو پاسپورٹ کے ہوتے ہوئے مخصوص کارڈ کے ذریعے آمد و رفت کی اجازت دی جائے بلکہ بادینی،گلستان،نوشکی،دالبندین اور دیگر میں دونوں ممالک کے درمیان نئے بزنس گیٹس کھولے جائیں اور دونوں ممالک کے سرحدی اضلاع میں بارڈر مارکیٹس بنائے جائے تاکہ آمد و رفت اور کاروبار مزید آسان ہو،انہوں نے مریضوں کیلئے قونصلیٹ میں علیحدہ ڈیسک بنانے کی بھی تجویز دی اور کہا کہ پاک افغان تجارتی وفود کا تبادلہ ہونا چاہیے تاکہ بزنس کمیونٹی کو دونوں ممالک میں موجود سرمایہ کاری کے مواقعوں سے متعلق جانکاری مل سکے انہوں نے کوئٹہ میں ویزہ فیسوں میں اضافہ سے متعلق بھی شکایت کی اور کہا کہ وسطی ایشائی ریاستوں تک ایکسپورٹ بارے ہمیں افغانستان کے شرائط بارے بتایا جائے۔اس موقع پر ڈاکٹر عبد الحنان ہمت کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے دونوں ممالک کا تجارت سیاست کے زیر سایہ آچکا ہے اسی لئے بزنس حجم میں اس طرح اضافہ نہیں ہو پا رہا جس طرح ہونا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم کابل کے اعلیٰ حکام کے کہنے پر بلوچستان کی بزنس کمیونٹی کو افغانستان میں گیس،تیل،بجلی،کانکنی،ڈیمز بنانے،سیمنٹ سازی،چینی اورکپڑا سازی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دینے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اس سال ڈیڑھ لاکھ ٹن کپاس کی کاشت حاصل ہوئی ہے جسے سے کپڑا اور دیگر مصنوعات بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان لازم و ملزوم ہیں بلکہ ان دونوں ممالک کے مابین تاریخی اسلامی،ثقافتی اور کاروباری روابط ہیں ہمیں تجارت کو سیاست سے الگ کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی آمد و رفت کیلئے پاسپورٹ کی شرط نہیں رکھی بلکہ یہ پاکستان کی شرط تھی ہم اب بھی شناختی کارڈ اور تذکیرہ پر ہم ممکن سہولت دینے کا تیار ہیں ہم پاکستانی سرمایہ کاروں کو افغانستان میں ہر ممکن سہولیات دیں گے انہوں نے کہا کہ ہم کوئٹہ میں ویزہ فیسوں بارے یہاں کی بزنس کمیونٹی کی شکایات اعلیٰ حکام تک پہنچائیں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے سرمایہ کاروں اور افغانستان پاکستان کے سرمایہ کاروں کیلئے موزوں ترین ملک ہے اور بزنس کمیونٹی ہی دونوں ممالک کے مابین صورتحال میں بہتری کیلئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں