کراچی میں دھرنے، صوبائی حکومت اور مظاہرین میں مذاکرات بے نتیجہ ختم

کراچی (آئی این پی ) کراچی میں جاری دھرنوں کے حوالے سے صوبائی حکومت اور مظاہرین میں مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے،وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں دھرنوں سے عوام کو تکلیف پہنچ رہی ہے، پہلے ایک جگہ دھرنا تھا، اب 12 مقامات تک دائرہ پھیلا دیا گیا، لوگوں کو تکلیف ہو تو، اسے ختم کرنا ہماری ذمہ داری ہے جبکہ سینئر وزیر سندھ سعید غنی نے کہا کہ جوواقعات ہوئے اس کی مذمت کرتے ہیں۔ تفصیل کے مطابق کراچی میں مختلف مقامات پر جاری دھرنوں کے پیش نظر صوبائی حکومت اور مظاہرین میں مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔ سینئر وزیر سندھ سعید غنی نے کہا کہ جوواقعات ہوئے اس کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے سے دھر نے جاری ہیں، چاہتے ہیں تمام معاملات خیروعافیت سے ختم ہوں، شہرکے تمام لوگوں کی تکالیف ختم ہوں۔دوسری جانب صوبائی وزیر ناصر شاہ نے کہا کہ دھرنے ختم نہیں بھی ہوئے توسائیڈ پرہوں گے، علما سے گزارش کی ہے کوئی حل نکالیں، دھرنیوالوں نے 4 روز پہلے یقین دہانی کرادی تھی۔ دریں اثنا ملیر ایکسپریس کے فضائی معائنے کے بعد کے بی فیڈر کی لائننگ کا جائزہ لینے کے لیے ٹھٹھہ میں موجودگی کے دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں دھرنے دینے والوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، انہیں ایک مقام پر احتجاج کی پیشکش کی ہے، انتظامی اقدامات اور مذاکرات سے کراچی میں دھرنے ختم کر دیں گے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہم پر امن احتجاج کے مخالف نہیں، مسئلے کو اچھے انداز میں حل کرنا چاہتے ہیں، پارا چنار میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر افسوس ہے۔انہوں نے کہا کہ ملیر ایکسپریس وے کی ایم نائن تک تکمیل سے کراچی سے اندرون ملک جانے والے مسافروں کا ایک گھنٹے کا وقت بچے گا، آج ملیر ایکسپریس وے کا فضائی جائزہ لیا ہے، اس منصوبے سے کراچی میں شاہراہ فیصل کے علاوہ دیگر اہم سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ کلری بگہیار فیڈر (کے بی فیڈر ) کا معائنہ کرنے یہاں آیا ہوں، کے بی فیڈر کی لائننگ وفاق کے اشتراک سے کر رہے ہیں، تاکہ کراچی والوں کو پانی کی فراہمی بہتر ہوسکے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق نے اس منصوبے کے لیے ابھی تک اپنا آدھا مالی شیئر دیا ہے، میں درخواست کروں گا کہ وفاقی حکومت اپنا پورا شیئر دے، ہمیں 260 ایم جی ڈی گیلن پانی کراچی کے لیے چاہیے، کے بی فیڈر کی لائننگ پر دو ماہ میں کام مکمل کیا جائے گا۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کراچی کی آگیومینٹیشن کے لیے ورلڈ بینک بھی تعاون کر رہا ہے، ان کی شرط تھی کہ کسی کا پانی کا شیئر کم نہ ہو، کراچی کو پانی کی فراہمی بڑھا کر دو گنا کرنے جارہے ہیں، ابھی اس کے بعد حب ڈیم کی جانب جارہا ہوں، حب ڈیم کا منصوبہ بھی بر وقت مکمل کریں گے، تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں