اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر،پی ٹی آئی معاملہ حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھے، اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سامنے رکھے، اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔ وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات جاری رہیں گے، پہلی میٹنگ میں پی ٹی آئی کمیٹی کے 3ارکان موجود تھے، انہیں کہا گیا کہ آپ کورم پورا کریں اور اپنے مطالبات تحریری طور پر دیں، دوسری میٹنگ میں پی ٹی آئی کے 6ارکان شریک ہوئے، جن میں علی امین گنڈاپور بھی شامل تھے۔ مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے رہا کیا جائے وفاقی وزیر نے کہا کہ دوسری میٹنگ میں بھی پی ٹی آئی کی جانب سے کیا گیا کہ مطالبات لکھ کردے گی، جو تاحال نہیں دئیے گئے، کہا گیا کہ عمران خان سے ملاقات کروائی جائے، اتوار کو وہ ملاقات بھی کروائی گئی، اب مطالبہ سامنے آیا ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے عمران خان کو رہا کیا جائے، یہ ساری زندگی کہتے رہے ہیں کہ این آر او نہیں لیں گے، اب اس طرح کی باتیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بندے مقدمات میں ملوث ہیں اور جیلوں میں بند ہیں، اور جن پر انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں اور کرپشن کے کیسز چل رہے ہیں، حکومت ان کو رہا کردے تو آئین و قانون تو اس کی اجازت نہیں دیتا، پی ٹی آئی والے عدالتوں میں جائیں، جہاں انہیں ریلیف ملتا ہے، ملتا رہے، کہیں پہ نہیں بھی ملتا۔ رہنما پی ٹی آئی اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے وزیرقانون نے کہا کہ اعجاز چوہدری کا پروڈکشن جاری ہوا، جو اچھی بات ہے، اس پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہیں ہوا، پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی سے درخواست ہے کہ وہ یہ معاملہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سامنے رکھے، اس کا کوئی بہتر حل نکل آئے گا۔


