بلوچ کاز کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے لندن میں بلوچ ایڈوکیسی اینڈ اسٹڈیز سینٹر کا قیام
لندن (پ ر) نئی قائم کردہ تنظیم بلوچ ایڈوکیسی اینڈ اسٹڈیز سینٹر (BASC) نے باضابطہ طور پر اپنے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ تنظیم ایک آزاد، غیر جانبدار اور بلوچ انسانی حقوق پر ریسرچ و ایڈوکیسی کرنے والا ادارہ ہے، جس کا مقصد مغربی بلوچستان (ایران) اور مشرقی بلوچستان (پاکستان) میں بلوچ عوام کو درپیش سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینا اور ان کا ازالہ کرنا ہے۔ بلوچ اپنے خطے میں سب سے زیادہ منظم طور پر ظلم کا شکار ہیں اور بین الاقوامی سطح پر سب سے کم پہچانے جانے والی اقوام میں شامل ہیں۔ اس لیے مغربی بلوچستان (ایران) اور مشرقی بلوچستان (پاکستان) کے تجربہ کار انسانی حقوق کے کارکنان، محققین اور مصنفین کی ایک ٹیم نے BASC کے قیام کا اعلان کیا، جس کا مقصد بلوچ قوم کی خود ارادیت کی جدوجہد کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور معتبر تحقیق و بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے دیرپا تبدیلی کے لیے وکالت کرنا ہے۔ BASC کی ٹیم میں مغربی بلوچستان سے فریبا بلوچ (صدر)، عبداللہ عارف (ڈپٹی جنرل سیکرٹری)، محسن برہانزئی (ڈائریکٹر میڈیا)، عبدالغیوم بجاد (ریسرچ ایسوسی ایٹ) جبکہ مشرقی بلوچستان (پاکستان) سے حسن کھوسہ (نائب صدر)، قمبر مالک (جنرل سیکرٹری)، ڈاکٹر خورشید احمد (ڈائریکٹر ریسرچ)، عائشہ بلوچ (ریسرچ ایسوسی ایٹ) اور یاسر بلوچ (ٹیکنیکل آفیسر) شامل ہیں۔ جدید ڈیٹا ویریفیکیشن ٹولز اور تحقیقی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے BASC ہر ممکن کوشش کرے گی کہ اس کی رپورٹس درست، شواہد پر مبنی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں۔ ادارے کی رپورٹس حکومتوں، انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی تنظیموں کو باخبر رکھنے اور پالیسی اصلاحات و احتساب کے لیے دباﺅ ڈالنے کے مقصد سے تیار کی جائیں گی۔ تحقیق اور وکالت کے علاوہ، BASC بلوچ ڈائسپورہ کی مدد کے لیے بھی پرعزم ہے، جن میں سے کئی نے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے ہجرت کی ہے مگر جلاوطنی میں نئی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ تنظیم انہیں وسائل، تربیت، اور پلیٹ فارمز مہیا کرے گی تاکہ وہ اپنی جدوجہد کو انصاف اور انسانی حقوق کے لیے مو¿ثر آواز میں بدل سکیں۔ BASC کے ترجمان نے کہا کہ BASC سمجھتا ہے کہ وقت آ چکا ہے کہ دنیا بلوچوں کی آواز سنے۔ تحقیق، روابط اور بین الاقوامی شراکتوں کے ذریعے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ان کے حقوق کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ انہیں تسلیم، محفوظ اور برقرار رکھا جائے۔ BASC کا کام مقامی حقائق اور عالمی سطح کے درمیان ایک پل کی حیثیت سے ہوگا، تاکہ بلوچ عوام کے تجربات نہ صرف سنے جائیں بلکہ ان پر عمل بھی کیا جائے۔


