پاکستان ایک رضاکارانہ ملک، پشتون ، بلوچ، سندھی، سرائیکی، پنجابی اپنی مرضی سے اس ملک کا حصہ ہیں، محمود خان اچکزئی
اسلام آباد( پ ر)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین و تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی ممبران کے زیر اہتمام عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کا لیڈر عمران خان جنہوں نے الیکشن جیتا ہے اور یہ الیکشن زروزور ، ڈنڈے کی بنیاد پر ان سے چھین کر غیر آئینی طور پر شہباز شریف اینڈ کمپنی کے حوالے کیا گیاجو غلط ہے۔ موجودہ حکومت غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر جمہوری ہے اور دہشت گردی کی بنیاد پر قائم ہے اس کو سپورٹ کرنیوالا ہر فرد چاہے وہ کسی بھی ادارے کا ہو وہ آئین کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔ پاکستان ایک رضاکارانہ ملک ہے اس میں پشتون ، بلوچ ، سندھی ، سرائیکی پنجابی اپنی مرضی سے اس ملک کا حصہ ہیں اور آئین کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ آئین کو درخورداعتنا نہ سمجھنا آرٹیکل 6کے زمرے میں آتا ہے ۔ ہمیں نہ شہباز شریف اور نہ کسی اور سے کوئی دشمنی ہے ۔ تقریباً دو سال سے ایک غیر جمہوری حکومت ہے اور سب سے بڑی پارٹی کا لیڈر عمران خان جیل میں ہے ۔ عمران خان سمیت سینکڑوں کارکنا ن اس گناہ میں جیل میں ہیں کہ انہوں نے یہاںاحتجاج کیا تھا ،لوگوں کو گولیاں ماری گئی ، جو جیل میں ہیں ان کی پیشیاں ہوتی ہیں انہیں تنگ کیا جاتا ہے ۔ اگر کوئی پاکستان کو چلانا چاہتا ہے تو فوراً سے بیشتر عمران خان کی پارٹی ان کے دوستوں کورہا کرے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کل کسی صاحب نے کہا تھا کہ ساری سیاسی پارٹیاں بھول جائے الیکشن پانچ سال بعد ہوں گے بالکل! میرے ساتھ اس وقت تحریک انصاف کے ساتھی بھی کھڑے ہیں میں ان سے استدعا کروں گا کہ اس غیر نمائندہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اپنا مستقبل خراب اور پارٹی کی ساکھ کو مجروح نہ کرے ہمیں ان کے خلاف نکلنا ہوگا۔ ہم یہاںکوئی دس پندرہ دن اس لیئے خاموش رہے کہ یہاں ہندوستان پاکستان کی جنگ چھڑ گئی تھی اب جبکہ سیز فائر ہوگئی ہے ہم تمام لوگوں سے بشمول شہباز شریف یہ کہیں گے کہ جتنا جلدی ہوسکے آئین کو بحال کیا جائے یہ موجودہ حکومت کو معطل کیا جائے اور تمام سیاسی پارٹیوں کی گول میز کانفرنس بُلا کر مستقبل کا آئینی حل تلاش کیا جائے۔ دریں اثناءتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ وپشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پاکستان تحریک انصاف کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے عمران خان کی رہائی کے لئے احتجاج میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم زمانوں سے یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کو آئین کے تحت چلایا جائے تو یہ بہترین ملک بن سکتا ہے،وسائل سے پُر ملک ہے یہاں کے محنتی اور جمہوریت پر یقین کرنے والے عوام ہیں لیکن بدقسمتی سے یہاں آئین کو معطل کردیا جاتاہے ۔ہماری تحریک اس لیے بنی تھی کہ ہم آئین کی بحالی کی تحریک چلائیں گے لیکن بدقسمتی سے پاکستان ہندوستان کے مابین جنگ چھڑ گئی تو ہم نے اپنی سرگرمیوں کو کچھ وقت کے لیے معطل کرنا پڑا ۔اس سارے دوران ہم خاموش رہے نہ ہم نے کوئی بات کی نہ کسی بات پر کوئی تبصرہ کیا۔ اب چونکہ امن ہوگیا ہے تو ہم اپنے ملک میں آئین کی بحالی کی تحریک کو نئے سرے سے منظم کرینگے یہ کسی ادارے کسی فرد کے خلاف نہیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ حکومت غیر آئینی ،غیر قانونی اور غیر جمہوری ہے اور اس کے خلاف پاکستان کے ہر شہری کو اٹھنے کا حق ہے ۔ اس اسمبلی میں جو کچھ ہورہا ہے یہ پاکستان کی نمائندہ اسمبلی نہیں ہے یہ فارم 47کی اسمبلی ہے جو زروزور کی بنیاد پر آئی ہے ۔ تحریک انصاف کی رہبری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس ناجائز حکومت کو جائز قرار دینے کے لیے ان کا ساتھ نہ دے ان کی کمیٹیوں میں نہ بیٹھیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے یہاں پشتون ،بلوچ ، سندھی ،سرائیکی ،پنجابی اپنی مرضی سے اس ملک کا حصہ ہیں یہ ایک آئین کے تحت زندگی گزار رہے ہیں ۔ بدقسمتی سے آئین کو درخورداعتنانہیں سمجھا جارہا ہے ۔ ہندوستان کے ساتھ جنگ تھی ہم اس لیئے خاموش رہے جنگی حالات میں نہیں چاہتے تھے کہ کوئی دوسرا میسج جائے اس لیئے آئین کے لیے کچھ وقت خاموش رہے ۔ اب جب کہ پاکستان ہندوستان کے مابین جنگ بند ہوگئی ہے ہم نے اپنی تحریک چلانی ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہماری کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں آئین کی بالادستی ہو ،ہر ادارہ آئین کے فریم میں اپنا کام کرے لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ یہاں جو حکومت بنی ہے شہباز شریف کی سربراہی میں یہ زروزور ، ڈنڈے کی بنیادپر باقاعدہ 25کروڑ انسانوں کو دہشت زدہ کرکے دہشت گردی کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا گیا جو بھی آدمی، ادارہ یا پارٹی اس غیر جمہوری ، غیر نمائندہ حکومت کو سپورٹ کرتی ہے وہ آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ ہم اس حکومت کو نمائندہ حکومت نہیں سمجھتے ہم اس ملک میں آئین کی بالادستی چاہتے ہیں ۔ لیکن دُکھ ہوتا ہے کہ ہمارے بعض ساتھی اس غلط حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اُس کو جائز قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں جو قابل مذمت ہے ۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف صاحب اس بات کو سمجھتے ہیں وہ اس وقت خاموش ہیں ۔حالات کا تقاضا ہے یہ کہ اس حکومت کو جمہوری طریقے سے مل بیٹھ کر معطل کرنا چاہیے ، عمران خان کا کیا قصور ہے کہ ان سے ان کی بہنیں اور پارٹی کے لوگ ملاقات نہیں کرسکتے دنیا میں کسی بھی جیل میں بڑے سے بڑے مجرم سے ملاقات پر پابندی نہیں۔عمران خان کے ملاقات پر پابندی غیر آئینی ، غیر فطری اور غیر انسانی عمل ہے جسے ختم کرنا اور انہیں رہا کرنا ملک کی ضرورت بن چکا ہے۔ عمران خان نہیں جتنے بھی سیاسی قیدی ہیں ہزاروں قیدی بیٹھے ہیں ، جو رہا ہوئے انہیں ہر پانچ دن بعد بُلایا جاتا ہے یہ زیادتی ہے ۔ پاکستان اگر کسی کو عزیز ہے توسب اداروں کو مل بیٹھ کر پاکستان کو اس بحران سے نکالنا چاہیے ۔ ایسی حکومت بنائی جائے جو عوام کی نمائندہ ہو اور اگر اس کے لیے اس حکومت کو جانا چاہیے تو اسے رخصت کرنا چاہیے ۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان ہندوستان کی جنگ کے دوران یہاں ہر دوسرا آدمی ، ہر چمگادڑ فیلڈ مارشل بنا ہوا تھا ایٹم بم سے کم کسی چیز کی بات ہی نہیں کرتاہے ۔ ہمارے لیئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ دنیا کے ایک اہم آدمی نے یہ بات کی ہے کہ اگر ہم نے مداخلت نہ کی ہوتی تو یہ لوگ ایٹم بم استعمال کرتے اور لاکھوں لوگ مارے جاتے ۔ پاکستان یا ہندوستان کے لوگ اتنے بھی پاگل نہیں ہیںکہ بس ایٹم بم استعمال کرتے۔میں تو یہ سمجھتا ہوں جو بھی ایٹم بم کے استعمال کی بات کرے اُسے فوراً گرفتار کیا جائے ۔


