ایرانی بارڈر کی بندش سے مکران کے سرحدی علاقوں میں پیٹرول، اشیا خورونوش اور بیروزگاری میں اضافے کا خدشہ
پسنی (رپورٹ: سخی کریم) ایران اسرائیل کشیدگی،مکران کے سرحدی علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات سمیت اشیائے خورونوش کی قلت اور بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر بلوچستان کے سرحدی علاقے خصوصاً مکران ڈویژن ایک ممکنہ معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایران سے متصل سرحدی تجارت بند ہونے کی صورت میں علاقے میں اشیائے خورونوش، ایرانی پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کے روزگار پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ مکران کے سرحدی علاقوں تربت، مند، تمپ اور پنجگور میں ہزاروں افراد براہِ راست ایران سے ہونے والی درآمدی تجارت پر انحصار کرتے ہیں۔ ایرانی تیل، آٹا، سیمینٹ، سریا سمیت خوردنی اور دیگر اشیاءنہ صرف مقامی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ کئی گھرانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ مقامی تاجروں اور کاروباری افراد نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ بارڈر بند ہوگیا تو نہ صرف تیل اور خوراک کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ بلکہ پہلے سے پسماندہ علاقوں میں بے روزگاری اور غربت کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔


