ایرانی بارڈر کی بندش، پسنی میں پیٹرول سمیت اشیا خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

پسنی (نامہ نگار) پسنی ایرانی بارڈر کی بندش، ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ، ایرانی پٹرول فی لیٹر 60 روپے مہنگا، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ایران کے ساتھ زمینی سرحد کی عارضی بندش نے بلوچستان سمیت سرحدی علاقوں میں شدید معاشی بحران کو جنم دے دیا ہے۔ بارڈر کی بندش کے بعد ایرانی پٹرول کی ترسیل رکنے سے پٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ایرانی پٹرول فی لیٹر 60 روپے اضافی نرخ پر فروخت ہو رہا ہے، جب کہ ایرانی پیٹرول کی قلت کے باعث ٹرانسپورٹ اور مقامی کاروبار متاثر ہو رہے ہیں،ذرائع کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ ذخیرہ اندوزوں نے خوب اٹھایا ہے، جنہوں نے پہلے سے ذخیرہ شدہ ایرانی پٹرول مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیا ہے، ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی قلت سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کے ساتھ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ہے ، دوسری طرف مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ بارڈر کی بندش اگر طویل ہوئی تو حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں،تاجر برادری اور شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بارڈر کھولنے کے لیے ایران سے فوری سفارتی بات چیت کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں