حکومت پاکستان مشہد کی جیل میں قید بیٹے کی رہائی میں مدد کرے، دالبندین کے رہائشی والد کا مطالبہ

دالبندین (این این آئی) دالبندین کے علاقے کلی اعظم جھڈی کے رہائشی منیر احمد محمد حسنی نے دالبندین پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ان کے نوجوان بیٹے کو ایران کی جیل سے رہا کروایا جائے منیر احمد نے بتایا کہ ان کا 18 سالہ بیٹا محمد یاسین، جو گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول چھہتر میں پڑھتا تھا، تقریباً ڈھائی سال پہلے غلطی سے سرحد پار کر کے ایران چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد ان کے بیٹے نے ایران کے شہر مشہد کی جیل سے ایک خط لکھا جس میں بتایا کہ وہ جیل میں قید ہے اور جیل حکام رہائی کے لیے ایک ملین تومان (ایرانی رقم) مانگ رہے ہیں۔ خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر رقم نہ دی گئی تو اسے پھانسی دی جا سکتی ہے۔منیر احمد کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اور وہ نہ تو اتنی بڑی رقم ادا کر سکتے ہیں، اور نہ ہی ایران جا کر اپنے بیٹے کی مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے، صرف ایک غلطی کی سزا بھگت رہا ہے۔انہوں نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف، آرمی چیف حافظ محمد منیر احمد، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل اور محمد حسنی قبیلے کے معززین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر فوری توجہ دیں اور محمد یاسین کو جیل سے رہا کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔آخر میں منیر احمد نے کہاہم بہت غریب لوگ ہیں، ہمارے پاس کوئی سہارا نہیں۔ میری حکومتِ پاکستان سے اپیل ہے کہ میرے بیٹے کو جیل سے نکال کر وطن واپس لایا جائے۔ وہ بے قصور ہے اور ہم بے بس ہیں۔یہ ایک غریب باپ کی فریاد ہے، جو صرف انصاف اور مدد مانگ رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایران میں پاکستانی سفارتخانے سے گزارش ہے کہ فوری طور پر اقدامات کیے جائیں تاکہ ایک نوجوان کی زندگی بچ جانے

اپنا تبصرہ بھیجیں