پسنی میں تین ماہ قبل قتل ہونے والے کمسن طالب علم ساحل گلاب کے قاتلوں کو گرفتارکرلیا، پولیس

پسنی (نامہ نگار)پسنی تین ماہ قبل قتل ہونے والے کمسن طالب علم ساحل گلاب کے قاتلوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ، 260افراد سے انوسٹی گیشن کی گئی جبکہ 400 مکانات پر چھاپے مارے گئے ،ملزمان کو ٹیکنیکل بنیادوں پر گرفتار کیا گیا ،ملزمان نے جرم قبول کرلیا ،قتل میں استعمال ہونے والی گاڑی کو بیچ دیا گیا تاکہ ٹبوت مٹائے جاسکیں ،ایس ایس پی گوادر ضیاء مندوخیل کا پسنی میں پریز کانفرنس سے خطاب ،ملزمان میڈیا کے سامنے پیش کردیئے گئے تفصیلات کے مطابق پسنی پولیس نے تین ماہ قبل لاپتہ ہونے والے اور بعد ازاں قتل کیے گئے کمسن طالبعلم ساحل گلاب کے کیس میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی گوادر ضیاء مندوخیل نے پولیس تھانہ پسنی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری جدید ٹیکنیکل بنیادوں پر کی گئی، جس میں پولیس کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے کلیدی کردار ادا کیا۔ایس ایس پی گوادر نے بتایا کہ کمسن ساحل گلاب مورخہ 4 اپریل 2025 کو اپنے گھر کے قریب سے لاپتہ ہوا تھا، جس کی لاش 6 اپریل 2025 کو پسنی مین روڈ کے کنارے سے برآمد ہوئی تھی۔ واقعہ کے بعد پولیس کے اعلیٰ افسران کی سربراہی میں دو خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے شب و روز محنت کرتے ہوئے شواہد اکٹھے کیے اور بالآخر اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔انھوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے مکمل روداد پولیس کے سامنے بیان کی، جس میں بتایا گیا کہ کس طرح ساحل کو اغواء کیا گیا، قتل کیا گیا اور اس کی لاش روڈ کنارے پھینک دی گئی۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ دورانِ تفتیش ملزمان کی جانب سے ہوشربا انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ساحل گلاب کے کیس میں 260کے قریب لوگوں سے تفتیش کیا گیا جبکہ پولیس نے 400مکانات پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔ایس ایس پی گوادر نے بتایا کہ ملزم عمران عرف کشل ولد مراد حاصل اور سراج ولد اسلم پولیس کی تحویل میں ہیں اور یہ کامیابی ڈسٹرکٹ پولیس گوادر کی انتھک محنت، پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور جدید تفتیشی طریقہ کار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں