حب میں پولیس و ضلعی انتظامیہ کی جانب سے طلباء کو تعلیمی و علمی سرگرمیوں سے روکنا افسوسناک ہے، بساک
حب (پ ر) بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ کئی عرصے سے حب پولیس و ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حب شہر میں بلوچ طالبعلموں کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے جہاں کبھی طلباءکی لائبریریوں میں جاکر ان کو تنگ کرکے بے جا تفتیش کرنا، کتب میلوں پر دھاوا بول کر طلباءکو ہراساں کرنے سمیت تعلیمی و علمی سرگرمیوں پر دھاوا بول کر رکاوٹیں ڈالنا شامل ہیں۔ یہ سارے اقدام نہ صرف تعلیم دشمنی کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہیں۔ گزشتہ روز حب میں بلوچ طلباءکی جانب سے ایک علمی سرگرمی مطالعاتی سرکل رکھی گئی، جس کا عنوان ”بنیادی حقوق اور عالمی قوانین، یونیورسل ڈکلریشن آف ہیومن رائٹس“ تھا جس کے مقرر ایڈووکیٹ سراج بلوچ تھے، اس علمی نشست پر پولیس نے دھاوا بول کر وہاں موجود طلباءکو ہراساں کرکے ان کو مطالعاتی سرکل کے انعقاد سے روک دیا۔ ایڈووکیٹ سراج کو غیرقانونی طور پر حراست میں لے لیا گیا، تاہم بعد میں رہا کردیا گیا۔ پولیس نے طلباءکو زبردستی منتشر کیا اور بعض کے موبائل فونز بھی چھین لیے جو کہ نہایت شرمناک و جارحانہ اقدام ہے۔ اس واقعے میں ڈی سی نثار لانگو، ڈی ایس پی امام بخش اور ایس ایچ او عطااللہ جاموٹ شامل تھے۔ ان سرکاری آفیسروں کی جانب سے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ بلوچ طلباءکو لائبریریوں میں ہراساں کیا گیا ہے، جہاں لائبریری میں آکر طلباءکی تفتیش کی جاتی ہے، ان سے غیر ضروری سوالات کیے جاتے ہیں اور آخر میں خیرات کی طرح طلباءمیں کولڈ ڈرنکس و کیکس تقسیم کیے جاتے ہیں جو کہ ایک مضحکہ خیز و غیر سنجیدہ عمل ہے۔ یہ طرز عمل تعلیم، جمہوری حقوق و طلباءکی خودداری کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔ بلوچستان میں پہلے ہی سیاسی سرگرمیوں پر قدغن ہے جہاں کبھی کتب میلوں تو کبھی سیمینار و دیگر سیاسی تقریبات پر دھاوا بول کر منتظمین کو ہراساں و گرفتار کیا جاتا ہے۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچی ہے کہ حکومت طلباءکو تعلیمی و علمی سرگرمیوں سے بھی محروم کررہی ہے۔ ایک طرف حکومت بڑے بڑے دعوے کرتی ہے کہ وہ بلوچستان کے نوجوانوں کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرے گی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہی نوجوانوں کو بلوچستان کے اندر علم و فکر سے دور رکھنے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے۔ ہم حکومت و ضلعی انتظامیہ کے سامنے واضح کرتے ہیں کہ ہماری سیاسی، علمی و تعلیمی سرگرمیاں معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے ہیں، ان پر بلاجواز رکاوٹیں ڈالنا انتہائی شرمناک و غیرقانونی ہے۔ حب میں بلوچ طلباءکی کسی بھی علمی سرگرمی کو سبوتاژ کرنا فوری طور پر بند کیا جائے۔


