میر غوث بخش بزنجو کی شاندار سیاسی جدوجہد

تحریر: ڈاکٹر عطاء اللہ بزنجو


	آج دنیا کی بدلتی ہوئی عالمی صورت حال، روسی اور یوکرینی جنگ ، ایران، شام، لیبیا، سب اس جنگ کی لپیٹ میں ہیں۔ فلسطین میں تباہ کاریاں ہو رہی ہیں۔مختلف ممالک کے ایک دوسرے پر ایٹمی حملے وغیرہ، جس کے نتیجے میں سرمایہ داری نظام شکلیں بدل رہا ہے،نئی پالیسیوں کے ساتھ نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں جنھیں امریکا کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے بلکہ وہ خود ان میں پیش پیش ہے۔ اور خصوصاً بلوچستان کے اندر گزشتہ برسوں سے جو کچھ ہوتا چلا آرہا ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں دور اندیش رہنما بابا بزنجو کے سائے سے محروم ہم تقسیم در تقسیم کے مراحل سے دو چار ہیں آنے والے حالات اور ان کے اثرات ابھی سے جس طرح ہم پر پڑرہے ہیں، ان کو دیکھ کر بابا بزنجو کی شدید کمی محسوس کرتے ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں بابا بزنجو کی جمہوری و عملی سیاست، ان کے تبصرے اور سیاسی بصیرت ان کے بتائے ہوئے مشاہدے جس طرح سچ ثابت ہوئے ہیں ان کا اندازہ آج عرب ممالک کے اندر افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے اور سعویت یونین میں جو آخری مرتبہ آپ نے گوربا چوف اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی اور سعویت یونین کے اندرونی حالات کا جو جائزہ لیا اور جو پیش گوہی کی اور ان کے اثرات دنیا پر کس طرح اثر انداز ہونگے وہ آج سب کے سامنے ہیں۔ 
	آج جس طرح بین الاقوامی سامراجی قوتوں نے جس تیزی کے ساتھ بلوچستان کا رخ کیا ہے اور جن کے اثرات آنے والے دنوں میں ہم پر جس طرح اثر انداز ہونے جارہا ہے وہاں ہم قابل فخر بابا بلوچستان جیسے ہستی کے ہونے اور تجزیوں سے محروم ہیں۔ 
	میر غوث بخش بزنجو نے طویل قید و بند کی زندگی گزاری۔ وہ ہمیشہ اپنے اصول ،قول و فکر اور نظریے سے جڑے رہے۔ میر بزنجو کی سیاست کی سمت ہمیشہ یک طرفہ رہی۔ اُنہوں نے جمہوریت کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ جمہوریت کو پروان چڑھایا۔ بلوچ لیگ استمان گل، قلات نیشنل پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی، پاکستان نیشنل پارٹی، ایم آر ڈی، اے آر ڈی کے پلیٹ فارم ہوں یا کوئی مزدور تحریک، ٹریڈ یونین، طلباء تحریک، ڈیمو کریٹک فورم سے لیکر ہر اُس جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالا جہاں جمہوریت اور خود مختاری کی بات کی گئی۔ بابا بزنجو ایک ایسی شاندار تاریخ رکھتے ہیں جس کا ہر صفحہ جمہوریت کا پرچم لیے لہرا رہا ہے۔ انہوں نے جو سختی اور تکالیف دیکھیں۔
	معاشرے کے اندر اپنا نمایا کردار ادا کرتے رہے گو کہ اُن کے سامنے اپنوں سے لے کر حکمرانوں تک ہر قسم کی رکاوٹ کا سامنا رہا مگر وہ سہتا گیا اور آگے بڑھتا گیا اُن کی زندگی کا نام ہی جدوجہد ہے۔ ورنہ تاریخ اُنہیں آج ایک با اُصول شخصیت کے طور پر کیوںکر یاد کرتی، بہت یاد آؤں گا۔۔۔ ڈھونڈیں تجھے کہاں او بابا۔ کتنے دکھ دیے تمہیں، کتنی اذیتیں دیں آپ کو، کتنے تمہارے خلاف بولے، کتنا تمہارے خلاف لکھے، مگر آپ نے کچھ نہیں کہا۔ خندہ پیشانی سے قبول کرتے رہے کچھ کہے بغیر آگے بڑھتے رہے۔ مخالفین سے بھی ایسی محبت آپ کو بابا بزنجو سے ہی ملے گی۔ یہ میرے سیاسی وارث ہیں ایسی باتیں بابا بزنجو بول سکتے ہیں اتنے کشادہ دل کے مالک، اتنی بصیرت، اتنا وژن چہرے پہ اتنا نور اور مسکراہٹ ’’جو سجا ہے ان کے رخ پر، یہ تمہارا خون ہے لوگو‘‘ ۔
	1935ء کے زلزلے سے محفوظ رہے، کوئٹہ کی یہ تباہی جہاں ہزاروں جانیں نگل گئی اور بہت بڑے ترقی پسند شخصیت یوسف عزیز مگسی سے ہم ہاتھ دھو بیٹھے۔ جامعہ یوسفیہ تکمیل انسانیت، انجمن بلوچاں اتحاد، فریاد بلوچستان یوسف عزیز مگسی ایک ایسے دور میں ہم سے چلے گئے، جن کی انتہائی ضرورت تھی 27 سال تک کی عمر میں وہ میسر انداز سے انہوں نے جو بلوچوں کی تحریک اور جہدو جہد میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔ ترقی پسندانہ خیالات کے مالک کٹھن سرداری و نوابی اور جاگیرداری دور میں جس طرح وہ لیڈ کر رہے تھے یقینا آگے چل کر مزید ابھر کر سیاسی دائرے میں شامل ہو کر حقوق کی اس جنگ میں نمایاں ہی رہتے لیکن وقت بھی ظالم ہے اور مادر وطن کا بہترین فرزند یوسف عزیز مگسی زلزلے کی نذر ہو گئے۔ اس کے بعد بابا بزنجو کا سفر شروع ہوتا ہے یوسف عزیز مگسی اور میر عبدالعزیز کرد کے بعد یہ جاری جدو جہد بابابز نجو، ملک فیض محمد یوسفزئی محمد حسین عنقا، میر گل خان نصیر بابو عبد الکریم شورش و دیگر رفقاء کی شکل میں سامنے آئیں۔ اس تباہ کن زلزلے کے بعد بابا بزنجو کاسفر کراچی اور پھر علی گڑھ یونیورسٹی میں ایک مایہ نیاز فٹبالر کی حیثیت سے قدم رکھا تو جوان بابا بز نجوعلی گڑھ یو نیورسٹی کے سیاسی ماحول سے اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہے سکے کانگریس سوچ کے عمل با با بزنجو ایک کچا کشادہ نین کا مالک رنگ،نسل اور تعصب سے بالا تر ہو کر اس ادارے کی تربیت گاہ میں اپنا سیاسی سفر شروع کرنے لگا اور کانگریس کے پالیسیوں نے میر بزنجو کے دل و دماغ کی کھڑکیوں کو روشن خیالی سے اور بھر دیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے ماحول میں جو اثرات میر بزنجو پر چھوڑے وہ واپس آکر سخت گیر جمہوری موقف اپنانے اور بلوچستان کے حالات کی تبدیلی کیلئے بڑی حد تک کافی تھے اور بلوچستان کا یہ بابائے ہوچستان استمان بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوا انقلابوں کا اور جمہوری رویوں کا پاسباں اپنے خطے میں جمہوری جدو جہد کو پروان چڑھانے میں جو کلیدی کردار ادا کیا وہ آج سب کے سامنے ہے۔ ون یونٹ کے خلاف زندانوں میں یکساں قیادت اور جدو جہد میں سرفہرست رہے ہیں۔
	بابا بزنجو کی سیاسی جدوجہد علی گڑھ یونی ورسٹی کے بعد جب کراچی تشریف لائے وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کانگریسی خیالات کے حامل ابو الکلام آزاد اور نہرو جیسی شخصیات کے قریب رہے۔ جدوجہد کے اس سفر میں آپ ہمیشہ سرخ رو رہے۔ اور ڈٹ کر مارشلائی آمریت کا مقابلہ کیا۔ 
	1957ء میں نیپ کی تشکیل اور 1958ء کو سکندر مرزا نے مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کیا۔ اسمبلیاں توڑ دی گئیںاور ظلم و ستم کا نہ ختم ہونے والا دور شروع ہوا۔ 
	ایوبی آمریت کا دور۔ ون یونٹ کا قیام، سیاسی پابندیاں، گرفتاریاں، مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ، آئین کی پامالی، فسادات کا دور جس نے پورے ملک کو اندھیرے میں دھکیل رکھا تھا۔ جس کی گرفت روز بروز مضبوط ہوتی جارہی تھی، تو دوسری طرف نیپ کے سرکردہ لیڈراں پابند سلاسل۔ ظلم و جبر اور مارشلائی گرفت میں مگر ’’ایسے دستور کو صبح بے نور میں نہیں مانتا‘‘ ۔ کا سلسلہ بھی چل رہا تھا۔ جہاں بزنجو اور ان کے رفقاء ہر اول دستے کا کردار ادا کررہے تھے۔ اذیت اور تشدد بھی ان کا راستہ نہیں روک سکا۔ جب اور جہاں موقع ملتا ون یونٹ کے خلاف صف اول کا کردار اور حکمرانی کے خلاف جمہوریت کا پرچم بلند کیے ہوئے میدان عمل میں عملی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ (1957ء میں نیپ کی تشکیل اور جیل آباد ہونے لگے، قلی کیمپ میں اذیتیں زور پکڑنے لگی۔ نواب نوروز خان سے لیکر بزنجو، گل خان نصیر و دیگر رفقاء ایوبی آمریت میں سخت ترین دن گزار رہے تھے۔ ہمارے یہ رہبر مشکل دور میں بھی اپنے اصولوںپر نہ سودا بازی کی بلکہ اپنے موقف کے ساتھ جہد مسلسل کو جاری رکھا۔ مارشلائی دور میں تو بابا بزنجو کو پاکستان کی مختلف جیلوں (قلی کیمپ، کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل، مچھ، حیدر آباد، ساہیوال، گجراں والا وغیرہ) میں بھیج دیا جاتا تھا۔ یاکہ اُن پر پابندی لگاکر مکران بدر، مستونگ بدر، اسلام آباد ریسٹ ہاؤس، خضدار مشکے جہاں کہیں بھی سرگرمیاں کرنے کی کوشش کرتے تو گرفت میں لے لیے جاتے۔ بابا بزنجو اپنے دیگر رفقاء کے ہمراہ جب کبھی جیل سے رہا ہوئے یاکہ پابندیوں میں نرمی لائی گئی وہ متحرک نظر آتے، جلسوں میں، میٹنگوں میں، دوروں پر، جیل کے اندر ساتھیوںکی رہائی کے لیے تگ و دو،نواب نوروز خان کے لیے ذاتی حیثیت سے وکیل اور جب وکالت نامے پر دستخط کرنے کا وقت آیا تو بابا بزنجو پھر گرفتار۔ بابا بزنجو نے پوری زندگی اسی سفر میں اپنا سفر جاری و ساری رکھا، گویا انہیں آرام کرنے کا وقت بھی نہیں ملا۔ واقعی بابا بزنجو سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتے رہے اور اپنوں سے طعنے کھاتے رہے۔ لوگ انہیںبابائے مذاکرات کہتے رہے اور وہ بابائے استمان بابائے بلوچستان کہلائے اور اپنی زندگی کے اس سفر میں پیچھے مڑ کر کبھی نہیں دیکھا 
بڑا کٹھن ہے راستہ آ سکو تو ساتھ دو 
یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو 
	آمریت کے یہ وہ کٹھن دور تھے جو اس کٹھن زندگی کا فاصلہ طے کرسکا وہ ساتھ دیتا گیا۔ کیونکہ نواب کا لا باغ، بھٹو جیسے شخص جو نہ صرف 1965ء کی جنگ کا ذمہ دار بلکہ 1971ء میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے بھٹو کا کردار بھی واضح ہے۔ اور آگے چل کر انہوں نے بلوچستان اور نیپ حکومت کے ساتھ جوکیا اُسے تاریخ دہراتی رہے گی۔ بھٹو کی جاگیرداریت ، خود انائی نے اُسے جس مقام پر پہنچایا وہ سب اُس کا اپنا کیا ہوا تھا۔ ایوبی آمریت ہو ، 1965ء کی جنگ ہو یا کہ 1971ء کے سنگین حالات جس نے بنگلہ دیش کو جنم دیا۔ بات یہاں آکر نہیں رکتی بلکہ ضیاء کی آمریت کا دور بھی نیپ کے رہنماؤں نے سہا جس میں بھٹو نے بلوچستان اور ان رہنماؤں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا۔ اس کھٹن دور میں اگر میں حبیب جالب کا ذکر نہ کروں تو زیادتی ہوگی۔ ایسے دستور کو نہ ماننے اور صر صر کو صبا۔ بندے کو خدا کیا لکھنا  انہی دور کی، جبر ، ظلم اور بربریت سے جنم لی ہیں۔ جہاں ظلم ہوگا تو وہاں حبیب جالب جیسے انسان بھی پیدا ہونگے جنہوں نے ہر آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بھٹو دور کی ظلم و بربریت جاری تھی، حبیب جالب اپنے دوستوں کے ہمراہ شام کے وقت کراچی کی سڑکوں پر اس گردش میں تھے کہ کہیں سے شاید کچھ مل جائے، اسی دوران میر رسول بخش تالپور صاحب کا فون گورنر ہاؤس سے آجاتا ہے جو حبیب جالب کو گورنر ہاؤس آنے کے لیے اسرار کررہے ہوتے ہیں۔ سنیے حبیب جالب کا جواب’’ بھٹو نے نیب کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا اور آپ کہتے ہیں میں گورنر ہاؤس آجاؤ ںاس کے بعد بھٹو یہی کہیںگے کہ جالب ایک دو پیگ پینے آئے تھے۔ میں تو آپ کو بھی یہی مشورہ دوں گاآپ اس قید خانے سے نکلیں زیادہ عرصہ نہیں پاؤگے ‘‘اور آگے چل کر ایسا ہی ہوا۔ عطاء شاد نے سچ کہا ہے ’’یہ عمر بھر کا ساتھ ہے آسکو تو ساتھ دو‘‘ اور ہمارے یہ اکابرین پوری زندگی اسی جدوجہد، سچ اور جمہوریت کی جنگ لڑتے رہے۔ 
	بابا بزنجو اور ان کے رفقا کے خلاف مارشل لائی جنگ جاری تھی ون یونٹ توڑ دو والی 50 روپے کے نوٹ جو بزنجو کی جیب سے برآمد ہوئے تھے انہیں اذیت گاہ تک لے جانے کے لیے کافی تھی۔ ویسے بھی وہ کہیں بار ان اذیت گاہوں میں رہ چکے تھے مگر اس بار کوئٹہ جیل سے 14 سال کی سزا کے بعد ساہیوال جیل (منٹگمری ) منتقل کیے گئے ۔جیل میں انہیں سخت سے سخت اذیتیں دینے لگے۔ قید ِتنہائی جوکھنڈرات کا منظر پیش کررہا تھا کیڑے مکوڑوں سے بھرا ہوا تھا۔ بابا بزنجو اپنی سوانحی عمری بی ایم کٹی کی کتاب میں کہتے ہیں’’ سخت گرمی میں جہاں مجھے رکھا گیا تھا وہ حشرات سے بھرا ہوا تھا، لگتا تھا برسوں سے یہ بھوکے ہیں۔ کیڑے مکوڑوں کے بیچ میرا خون انہیں خوراک فراہم کرتا رہا۔ جس سے میرا وزن کم ہوگیا تھا۔ ایوب خان شاید اپنی شکست کا بدلہ لے رہے تھے جو کچھ اُن سے ہوا کرتے رہے اس کے بعد مجھے اچانک سرگودھا جیل منتقل کیا گیا وہاں پھر قید تنہائی، اسی طرح کا ہی سلوک 1958-1959ء میں قلی کیمپ میں ہمارے ساتھ روا رکھا گیا تھا۔ البتہ سرگودھا جیل میں کاکروچوں سے جان چھوٹ گئی تھی۔‘‘ لیکن انقلابی شاعر ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہا ہے: 
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے 
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
	بزنجو جیل میں اور نیپ کے درمیان آپس میں اختلافات شدت اختیار کرتے چلے گئے اور آخر کار بھاشانی کی جگہ ولی خان نے لے لی یہ وہ دور تھا جہاں مارشلائی ظلم وستم عروج پر تھا تو دوسری طرف بائیں بازو کی قوتیں بھی اپنی صفوں کے اندر مضبوطی کے ساتھ جڑتے ہوئے برسرِ پیکار تھے۔ ایوبی آمریت کو خطرہ لاحق ہوگیا اور حبیب جالب کی شاعری اس میدان جنگ کو مزید ہوا دیتی گئی۔ ایوبی گول میز کانفرنس بھی کام نہ آئی البتہ عبد الصمد اچکزئی اور جی ایم سید کا راستہ یہاں سے الگ ہوگیا۔ ایوب خان کی جگہ یحییٰ خان نے لی  اور مری میں ایوب کی جگہ یحییٰ خان کی تصویر آویزاں ہوگئی جہاں ایک تقریب کی صدارت فیض احمد فیض کررہے تھے اور اسٹیج پر حبیب جالب کو بلایاگیا تو انہوں نے کہا: 
’’تم سے پہلے وہ جو ایک شخص یہاں تختِ نشین تھا 
اُس کو بھی اپنے خدا ہونے پر اتنا ہی یقین تھا‘‘ 
	طویل مارشلائی دور کے بعد 1970ء کو الیکشن ہوئے۔ یوں نیپ کو کامیابی ملی اور مشرقی پاکستان بازی لے گیا۔ اکثریت اقلیت میں تبدیل ہو گئی اور بھٹو تخت نشین ہوئے۔ نیپ کی حکومت بھی ختم کردی گئی اور پوری قیادت دوبارہ جیل میں ڈال دی گئی۔ جیل سے رہائی کے بعد نیپ کے لیڈراں اختلافات کا شکار ہوگئے اور ہر کسی نے اپنی پارٹی تشکیل دے دی۔ کچھ ملک کے اندر کچھ ملک کے باہر چلے گئے۔ بابا بزنجو نے آخری عمر تک یہیں رہ کر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ ضیاء کے مارشلا کا سامنا کیا قید و بند اور پابندیوں کا سلسلہ برقرار رہا 1988ء الیکشن میں دونوں سیٹوں سے الیکشن ہار گئے اور نوجوانوں کو اپنا سیاسی وارث قرار دیا۔ کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہوئے اور مرتے دم تک اسکا مقابلہ کیا بسترِ مرگ تک جمہوری جدوجہد جاری رکھی ان کے یہ الفاظ تھے کہ ’’میں نے وطن اور اہلِ وطن سے عشق کیا ہے اس میں کہاں تک کامیاب رہا اس کا فیصلہ عوام کریں گے۔‘‘ بابا بزنجو نے اپنی زندگی کا آخری سفر بھی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں (کراچی سے نال تک) کے ذریعے کیا ۔ان کا کہناتھا کہ،’’ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے روز ہمارے عوام آتے جاتے ہیں، میری بے جان میت کو بھلا یہاں سے گزرتے ہوئے کیا ہو گا!‘‘
		بابا بزنجو کے اُس زمانے کے کیے گئے تجزیے اور تبصرے آج سب کے سامنے ہیں۔ جس کی لپیٹ میں آج ایران سے، یمن، شام، افغانستان تک سب ہیں۔ میر بزنجو نے کہا تھا،’’ملک کے عوام اور حکمرانوں کو کم از کم یہ ادراک کرنا چاہیے کہ ایران کے انتشار کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس کے نتائج بے حد دور از کار ہوں گے اور یہ حتیٰ کہ خطے کے جغرافیے کو بالکل تبدیل کرسکتا ہے۔‘‘ 
		افغان پناہ گزینوں کے متعلق بابا بزنجو نے کہا ’’میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ ان پناہ گزینوں کو ان کے گھروں کو واپس بھیجنے کا واحد راستہ کا بل حکومت کو تسلیم کرنا اور اسکے ساتھ مذاکرات ہیں۔ اگر یہ جلدی ممکن نہیں ہوتا اور معاملے کو طول دیا جاتا ہے تو انہیں واپس بھیجنا نا ممکن ہوجائے گا۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ،’’عرب ممالک میں امریکا کی موجودگی مستقبل میں سرمایہ داری کے فروغ میں کام آئے گی۔ ان ممالک کی خاموشی سرمایہ ساری کو مزید مضبوطی کا حامل بنائے گی۔ ‘‘اور آج ایسا ہی ہو رہا ہے۔
		پروفیسر شاہ محمد مری بابا بزنجو کے متعلق لکھتے ہیں ’’بزنجو تو پھر بزنجو تھا‘‘ متوازن ، مہربان اور بالغ فکر اس بڑے انسان نے چاہ بہار سے لے کر جھنگ تک اور نیم روز سے لے کر خان گڑھ تک ایک پورے برصغیر کی سیاست کی۔ ایک بے انت صحرا کی باغبانی کی ۔ بزنجو کی سیاسی بصیرت اور مستقل بین مزاج نے پڑوسی لیڈر شپ اور دانشوروں کو متاثر کیا۔ بزنجو بلوچ تہذیب و تاریخ کے ساتھ ابد تک اس صورت جڑا رہے گا۔ جسے نظرانداز کبھی بھی نہیں کیا جاسکے گا۔ وہ مستقبل میں بہت دیر تک اچھے انسانوں کو اپنے بارے میں ، اپنے نظریات و سیاست کے بارے میں اور ان کی روشنی میں اُس عہد کے درد کے بارے میں بڑے بڑے ہالوں کے اندر جمع کرواتا رہے گا۔ اپنی سوچ کے تسلسل میں چلنے والے اُس دور کے قافلے شامل کرواتے رہے گا۔
 		بزنجو مکمل طور پر ایک سیاسی انسان ، وہ اندر، باہر، ظاہر ، باطن سیاست ہی سیاست تھا۔ بزنجو سیاست کا بیٹا، بھائی اور باپ تھا۔ بزنجو بلوچستان کی خشک زمین اور کھٹن کوہستانوں کا البیلا، بابا بزنجو کی سب سے بڑی خوبی خصوصیت ثابت قدمی تھی۔ کوئی ادل بدل ، کوئی دایاں بایاں نہیں، یار دوست اِدھر اُدھر گئے کوئی یہاں لپکا، کوئی وہاں جھپکا، مگر میر بزنجو گہری جھیل کی طرح کوئی ارتعاش نہیں، کوئی پس و پیش نہیں۔ بستر مرگ تک اپنی اس بات پر قائم رہا کہ قوموں کو ان کی پیدائشی اور فطری انسانی حقوق دیے جائیں۔    
	بابا ہم مایوس نہیں ، ہم آپ کے نظریئے ، آپ کے جہد مسلسل کے پیروکار ہیں۔آپ نے پوری زندگی جس طرح عوام کی خدمت کی اور جہوریت کے لیے جنگ لڑی۔ ہماری قوت بھی عوام ہے۔ عوامی جدوجہد ہی جمہوری جدوجہد ہے ۔۔۔۔ اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ 
تم سے قوت لے کر اب میں تم کو راہ دکھائوں گا
تم پرچم لہرانا ساتھی، میں بربط پر گاؤں گا
	میر غوث بخش بزنجو کی سیاست ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جس میں کئی نشیب و فراز آئے گئے مگر وہ جمہوریت کی بقا کے لیے استعماری قوتوں کے خلاف جدوجہد اور ترقی پسند سیاست سے کبھی دستبردار نہیں ہوئے۔ 
عوامی شاعر حبیب جالب کا بزنجو سے گہرا نظریاتی رشتہ رہا۔بزنجو صاحب کی وفات پر حبیب جالب نے انہیں جو خراجِ عقیدت پیش کیا، وہی ان کی سیاست کا نچوڑ ہے۔
اسے مصلحت نہ آئی یہی اس کی تھی بڑائی
چلو اس کے راستے پر میرے ہمدمو رفیقو
یہ جو تخت پر ہیں تمہیں ذلتیں ہی دیں گے
جو سجا ہے ان کے رخ پر، یہ تمہارا خوں ہے لوگو

اپنا تبصرہ بھیجیں