بلوچستان، مختلف علاقوں میں طوفانی بارشیں، دریاوں میں طغیانی، بی بی نانی کا پل شدید متاثر

کوئٹہ(یو این اے ) بلوچستان کے مختلف اضلاع بشمول بولان، کچھی، سبی، حب اور ہرنائی میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس نے گرمی اور حبس کا زور توڑ دیا اور مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی۔ دریائے ناڑی میں ریکارڈ شدہ 80,000 کیوسک سیلابی ریلہ اور دریائے بولان میں 22,000 کیوسک ریکارڈ ہوئے، جبکہ مشکاف وئیر میں 8,000 کیوسک کا سیلابی ریلہ ریکارڈ کیا گیا۔بولان میں طوفانی بارشوں کے باعث دریاوں میں طغیانی آئی جس سے این 65 بولان-سندھ قومی شاہراہ پر واقع بی بی نانی پل کا ایک پائل متاثر ہوا اور ٹریفک دس گھنٹے کے لیے معطل رہی۔ ضلعی انتظامیہ کچھی نے کولپور اور ڈھاڈر کے مقام پر ٹریفک روک کر مسافروں اور ڈرائیورز کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ محکمہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے مشترکہ اقدامات کے بعد پل سے چھوٹی گاڑیوں کے لیے ٹریفک بحال کر دی گئی، تاہم بھاری گاڑیوں کی بحالی میں مزید دو سے تین دن لگنے کا امکان ہے۔ متاثرہ پل کی مرمت ایمرجنسی بنیادوں پر جاری ہے تاکہ سندھ، بلوچستان اور پنجاب جانے والی ٹریفک کی بحالی جلد ممکن ہو سکے۔ہرنائی کے علاقے گاچینہ میں سیلابی ریلے کے دوران تین بچے بہہ گئے، جن میں سے دو کو ریسکیو کر لیا گیا، جبکہ ایک بچے کی لاش بعد ازاں سگنڈی ندی سے برآمد ہوئی اور ہسپتال منتقل کر دی گئی۔ سوراب کے مختلف علاقوں میں 115 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، اور بعض علاقے شدید متاثر ہوئے۔ پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔حب شہر اور مضافات میں تیز ہواں کے ساتھ موسلا دھار بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا، لیکن سیوریج کا نظام ناکام ہونے کی وجہ سے گلی محلوں میں پانی جمع ہو گیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش کے آغاز کے ساتھ ہی بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔ ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مثر اقدامات نہ ہونے کے سبب صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔سبی اور بختیارآباد میں بھی طوفانی بارشوں کے باعث موسم خوشگوار ہو گیا، مگر ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ بختیارآباد کے پہاڑی سلسلوں میں دریائے ناڑی اور دریائے لہڑی میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کر رکھے ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ایریگیشن نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری رکھی ہیں، اور مشینری کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستے اختیار کریں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون بارشیں مزید دو روز تک وقفے وقفے سے جاری رہیں گی، جس کے پیشِ نظر تمام متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں