حکومت نے اپنی پالیسی نہ بدلی تو جمعیت ڈنکے کی چوٹ پر عوامی طاقت کے ساتھ میدان میں نکلے گی، مولانا واسع
کوئٹہ (این این آئی )جمعیت علماء اسلام چستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام عوامی مینڈیٹ کی حامل جماعت ہے ہمارا وجود عوام کے اعتماد اور حمایت کا مرہونِ منت ہے مگر افسوس کہ حکومتی مشینری کو سیاسی انتقام کا آلہ کار بنا کر ہمارے کارکنان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے یہ رویہ نہ صرف جمہوریت کی روح کے منافی ہے بلکہ عوامی مینڈیٹ کی توہین بھی ہے۔ ہمارے قیادت اور کارکنان پر آئے روز مقدمات قائم کرنا، انہیں گرفتار کرنا اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرنا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ حکومت عوامی تائید سے محروم ہوچکی ہے۔ "جو بوئے گا وہی کاٹے گا”، اور آج حکومت اپنی غلط پالیسیوں کا پھل خود کھا رہی ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ صبر و برداشت کا دامن تھامے رکھا ہے، لیکن اگر یہ جبر جاری رہا تو "خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے”۔ ہم سیاست میں شائستگی کے قائل ہیں مگر ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم ان ہی کی زبان میں جواب دیں۔ حکومتی رویے نے کارکنان کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی ہے، لیکن یاد رکھیں کہ "دیوار سے لگے ہوئے انسان کی ضرب بھی پہاڑ توڑ دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو جمعیت علماء اسلام "عوام کے زخموں پر مرہم اور ان کی آواز بن کر میدانِ عمل میں ا±ترے گی”۔ ہمیں اپنے کارکنوں پر فخر ہے، جو ہر حال میں عوامی مینڈیٹ اور حق کی جدوجہد کا پرچم بلند کیے کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ "طاقت کے زور پر ضمیر کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا”۔ اگر حکومت نے اپنی پالیسی نہ بدلی تو جمعیت علمائ اسلام ڈنکے کی چوٹ پر عوامی طاقت کے ساتھ میدان میں نکلے گی، اور یہ ثابت کرے گی کہ اصل طاقت گولی یا ہتھکڑی میں نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ میں ہے۔


