ایس بی کے وومن یونیورسٹی میں لیڈیز ہاسٹل میں غیر متعلقہ شخص کو رہائش دی گئی ہے، وارڈن حمیدہ کاکڑ
کوئٹہ (آن لائن) سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی ترجمان نے ایک وضاحتی بیان میں محترمہ فائزہ (سپرنٹنڈنٹ)کی جانب سے حالیہ پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان الزامات میں حقائق کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جو قابلِ مذمت ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ آڈٹ اعتراضات کے بعد تمام کنٹریکٹ آسامیاں باقاعدہ اخبارات میں مشتہر کی گئیں، اور ان میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہاسٹل میں کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو رہائش نہیں دی گئی، جبکہ سابقہ وارڈن (مسمات ح کاکڑ)بعض بے ضابطگیوں میں ملوث پائی گئی تھیںترجمان نے محترمہ فائزہ کی جانب سے وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق کو کسی یونین سے منسلک کرنے کے الزام کو بھی بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام نہ صرف وائس چانسلر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے بلکہ ادارے کی شہرت کو بھی متاثر کرنے کے مترادف ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کی سپرنٹنڈنٹ فائزہ شکیل نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ مجھے کام کرنے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے میرے دفتر کی تالا بندی کردی ہے جو عدالت کی حکم عدولی اور توہین عدالت کے زمرے میں آتاہے۔ جبکہ میں اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے نبھارہی تھی اور سینئر وارڈن حمیدہ کاکڑ نے کہا کہ لیڈیز ہاسٹل میں غیر متعلقہ شخص کو رہائش دی گئی ہے جس سے وہاں رہائش پذیر خواتین کو مشکلات درپیش آتی ہے گورنر بلوچستان اور حکومت اس کا نوٹس لیکر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرکے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ سپرنٹنڈنٹ فائزہ شکیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی جو بھی مذکورہ تعلیمی ادارے کی بہتری کے لئے کام کرتا ہے سازشی ٹولہ اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے سازشی ٹولہ بے نقاب ہوا سازشی ٹولے نے سابق وائس چانسلر ساجدہ نورین کوبھی کام کرنے نہیں دیاسازشی ٹولے میں فنانس کے لوگ بھی شامل ہیں جو ملازمین کی 6، 6 ماہ تک تنخواہیں بند کرتے ہیں موجودہ وائس چانسلر روبینہ بھی تنظیموں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہےںانہوں نے کہا کہ تحقیقات کے بغیر میرے دفتر کو وائس چانسلر کے کہنے پر دو تالے لگائے تاحال وائس چانسلر تالے لگانے کی وجوہات سامنے نہیں لاسکی۔ مجھے عہدے سے بغیر کسی جواز ہٹایا گیا جس کے خلاف میں نے عدالت سے رجوع کیا اور عدلیہ نے مجھے عہدے پر بحال کیا لیکن میرے دفتر کو تالا لگاکر عدالت کے فیصلے کی توہین کی گئی جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے امور ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں اس موقع پر سینئر وارڈن حمیدہ کاکڑ نے کہا کہ گزشتہ 12 سال سے کنٹریکٹ پر یونیورسٹی میں اپنی خدمات سر انجام دینے والے اساتذہ کو فارغ کر دیاگیاجس کا مقصد وائس چانسلر یونیورسٹی اپنے لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیے کنٹریکٹ پر بھرتی افراد کو فارغ کر رہی ہےں ایک لابی حکومت سے اپنے مفادات کے لیے حقیقت چھپا رہی ہے اور مجھے بھی میرے عہدے سے ہٹایا گیا میں بھی کنٹریکٹ پر کام کررہی تھی اور میرے کنٹریکٹ کو توسیع نہیں دی جارہی ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمدکو یقینی بنائیں۔ وائس چانسلر نے فی میل ہاسٹل میں غیر متعلقہ شخص کو رہائش دی ہے شکایت پر وائس چانسلر نے مجھے ہاسٹل سے ٹرانسفر کردیااس عمل سے گرلز ہاسٹل کا ماحول خراب ہورہا ہے اس کا نوٹس لیا جائے۔


