مائنر اینڈ منرل بل پر جے یو آئی کے کردار کو سازش کے تحت متنازع بنایا گیا، مولانا واسع

کوئٹہ(این این آئی)امیر جے یو آئی بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا افغانستان کے زلزلہ زدگان اور پاکستان کے سیلاب متاثرین کی امداد اس وقت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ہے۔ اس موقع پر میں تمام مخیر حضرات اور اداروں کو متوجہ کرتا ہوں کہ وہ بڑھ چڑھ کر اپنی مدد پیش کریں۔ مشکل وقت میں دیا گیا سہارا، مشکل میں ڈوبے شخص کے لئے زندگی کا چراغ ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی بلوچستان کی واحد جماعت ہے جس نے عملی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی دکانیں چمکانے والے موقع پرست عناصر جے یو آئی پر تنقید تو کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی کارکردگی کے ثبوت نام کی کوئی چیز نہیں۔ ان کے مطابق یہ لوگ دن رات الزامات کے تیر چلاتے ہیں لیکن جو ان کی ناکامی کے لئے کافی ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے لئے جے یو آئی نے جو عملی اقدامات کئے، وہ نام نہاد قوم پرستوں کو ہضم نہیں ہوتے۔ سوال اٹھایا کہ جب صوبہ اپنے حقوق سے محروم تھا تو یہ قوم پرست کہاں تھے؟ جب وقت آیا تو ان کی زبانیں گنگ اور ہاتھ پاو¿ں شل تھے۔ اور جب جے یو آئی میدان میں اتری اور کامیابیاں حاصل کیں تو وہی ناکام قوتیں آج ہمارے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے لئے جتنی خدمات جے یو آئی نے انجام دیں اس کا عشر عشیر بھی کوئی اور جماعت نہ کر سکی۔ ساتھ ہی یہ چیلنج بھی دیا کہ تنقید کرنے والے لوگ سامنے آئیں اور عوام کے سامنے بات کریں، ہم ثبوت کے ساتھ دکھائیں گے کہ جے یو آئی نے کس طرح عملی سیاست کو خدمت میں ڈھالا۔مزید سوال اٹھایا کہ کہاں ہیں وہ عناصر جو ریکوڈک کا کریڈٹ لینے کے دعوے کرتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ریکوڈک اور سیندک کے معاملے پر اصولی مو¿قف اپنانے کی وجہ سے جے یو آئی کو اقتدار سے باہر رکھا گیا۔ لیکن آج بلوچستان کو جو حصہ ملا ہے، اس کے اصل بانی اور محرک بھی جے یو آئی ہی ہے۔ چراغ تلے اندھیرا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔انہوں نے باور کرایا کہ این ایف سی ایوارڈ کے لئے جے یو آئی نے جو قربانیاں دیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج صوبے کا بجٹ چند ارب سے بڑھ کر سات سو ارب تک پہنچا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ انہی سازشی عناصر کی برکت ہے جو دن رات پروپیگنڈہ کرتے ہیں، یا یہ جے یو آئی کی برسوں کی محنت اور قربانیوں کا پھل ہے؟چھبیسویں آئینی ترمیم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی جے یو آئی کے تاریخی کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا سوال تھا کہ 56 نکات کو 21 نکات تک گھٹانے میں اصل بینیفیشری کون ہے؟ اور اگر یہ نکات حذف نہ کئے جاتے تو کیا آج آپ سیاست کرنے کے قابل ہوتے؟ چھبیسویں آئینی ترمیم کے تناظر میں یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا آپ ان چھپن نقات کے ہوتے ہوئے آزادانہ سیاست کر پاتے؟ کیا سب کچھ پہلے ہی ایک جال کی مانند قابو میں نہ کر لیا گیا ہوتا؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جے یو آئی کے کردار کو آپ ہی نے نہیں بلکہ باقی تمام جماعتوں نے بھی ہر ایک پریس کانفرنس اور اجلاس میں کھلے الفاظ میں سراہا؟ آج اگر یہ نقات حذف نہ کیے جاتے تو کیا آپ سیاست کے میدان میں آزاد گھوڑے کی طرح دوڑنے کے قابل ہوتے، یا پھر پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑے رہتے انہوں نے تنقید کی کہ یہ سب کچھ دراصل اس لئے کیا گیا کہ جے یو آئی کے اصولی کردار کو کمزور کیا جائے اور کچھ مخصوص مفاد پرست ٹولے فائدہ اٹھا سکیں۔ مزید کہا کہ جے یو آئی نے اس موقع پر کسی دباو¿ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے حقائق کی روشنی میں اصولی موقف اختیار کیا۔ سچ کو دبانے والے خود وقت کے ساتھ کچلے جاتے ہیں۔مائنز اینڈ منرل بل کے حوالے سے اظہار کیا کہ جے یو آئی کے کردار کو سازش کے تحت متنازع بنایا گیا۔ وضاحت کی کہ اس بل کے اصل بینیفیشری وہی سیاسی دکاندار ہیں جنہوں نے عوامی مفاد کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔ انہوں نے پھر چیلنج دیا کہ سامنے آئیں، ہم سب کچھ عوام کے سامنے رکھیں گے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی کو سوشل میڈیا کے جعلی ٹرائل سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ کہا کہ ہم زمینی حقائق پر کھڑے ہیں، اور ہماری سیاست کا سرمایہ اخلاص، خدمت اور عوامی اعتماد ہے۔ جھوٹ کے پاو¿ں نہیں ہوتے اور وقت گواہ ہے کہ جے یو آئی کا کردار کل بھی عوامی خدمت تھا اور آج بھی عوامی خدمت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں