جی ایس او آفس بلوچستان یونیورسٹی کی من مانیوں،تعلیم و تحقیق دشمنی نے تمام اخلاقی حدود پار کرلیں، ینگ اسکالرز

کوئٹہ (پ ر) یونیورسٹیز کی رینکینگ، نام اور ترقی ہی ریسرچ یا تحقیق سے جڑی ہوئی ہے مگر یونیورسٹی آف بلوچستان کے جی ایس او آفس پر براجمان ڈاکٹر قیصر نامی شخص اپنی من مانیوں، بلیک میلنگ اور ریسرچ و تحقیق کے دروازے بند کرنے میں ملوث ہوکر نہ کہ پوری سوسائٹی کے ساتھ فراڈ کر رہا ہے بلکہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں ینگ اسکالرز پر داخلے کے دروازے بند کرکے یونیورسٹی کو ریونیو جنریشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی رینکنگ میں پیچھے دھکیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ینگ اسکالرز فورم بلوچستان نے یونیورسٹی کو جی ایس او نامی جیسی مونوپولی سے چلانے اور ریسرچ و تحقیق کےلئے داخلے کے دروازے بند کرنے، کروڑوں اور اربوں روپے کے پروجیکٹس اور فیس کے ذریعے ریونیو جنریٹ کرنے پر وار کرنے کو یونیورسٹی آف بلوچستان کے ساتھ ایک گہری سازش قرار دیا ہے کیونکہ یونیورسٹی کے اساتذہ، آفیسران اور لیبر یونین ہر دوسرے دن تنخواہوں کا رونا رو رہے ہیں جبکہ گورنمنٹ آف بلوچستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن انہیں اپنی ریونیو جنریشن اور تحقیقی پراجیکٹس لینے کی پلانز دے رہے ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی کی پالیسی ساز اداروں سینیٹ، سینڈیکیٹ یا پھر اکیڈمک کونسل سے پاس کردہ بغیر جی ایس او آفس کی جانب سے فرمائشی ٹیسٹ بنا کر ینگ اسکالرز اور بلوچستان کی آنے والی نسلوں پر دورازے بند کرنا یونیورسٹی ایکٹ 2022 اور یونیسکو کی تعلیم و تحقیق کی موٹو اور بنیادی انسانی حقوق برائے تعلیم کی سراسر پامالی اور غیر انسانی، تعلیم و تحقیق دشمن عمل ہے جس کا خمیازہ یونیورسٹی آف بلوچستان بالخصوص اور سوسائٹی بالعموم بھگت رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں ایک طرف ڈپارٹمنٹس کو اس بنیاد پر تالے لگائے جارہے ہیں کہ وہاں اساتذہ زیادہ اور طلبہ و ریسرچرز کم ہیں جبکہ دوسری جانب یونیورسٹی میں موجود کالے بھیڑیے یونیورسٹی ہی کی پروفائل، رینکنگ، ترقی اور ریسرچ و تحقیق کے رستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ کیونکہ اب تو پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کی یونیورسٹیز بغیر کسی روک ٹوک کے اسکالرز ہنٹنگ کرکے انکی فیسوں سے ریونیو بناتے ہیں جبکہ ریسرچ پروجیکٹس کے ذریعے کروڑوں اربوں روپے کما کر یونیورسٹیز کی مالی حالت کو مستحکم بنا رہے ہیں جبکہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں گنگا الٹی بہتی ہے۔ ینگ اسکالرز فورم بلوچستان نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے چانسلر گورنر شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی، وزیر تعلیم بلوچستان راحیلہ حمید خان درانی، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وائس چانسلر بلوچستان ڈاکٹر ظہور احمد بازئی سے اس پوری صورتحال کی تحقیقات اور ملوث عناصر کی بدنیتی، تعلیم و تحقیق اور یونیورسٹی دشمنی میں ملوث بدنیت اور تعلیم دشمن عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں سزا دینے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں