معلومات تک رسائی کا حق بلوچستان میں قانون تو ہے مگر عمل درآمد غائب
تحریر: میر بہرام لہڑی
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور وسائل سے مالامال صوبہ ہے لیکن شفافیت، احتساب اور اچھی طرز حکمرانی کے حوالے سے ہمیشہ پیچھے رہا ہے۔ برسوں سے اقربا پروری، کرپشن اور حکومتی وسائل کے غلط استعمال کے واقعات نے عوام کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔ ایسے میں فروری 2021 میں بلوچستان اسمبلی کی جانب سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی منظوری کو ایک امید کی کرن سمجھا گیا۔ یہ قانون نہ صرف شفافیت کو فروغ دینے بلکہ عوام کو بااختیار بنانے اور اداروں کو جواب دہ بنانے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت تھی۔
پاکستان میں معلومات تک رسائی کا حق کوئی نیا تصور نہیں۔ اس کا آغاز 2002 کے فریڈم آف انفارمیشن آرڈیننس سے ہوا تھا لیکن وہ محض کاغذی کارروائی ثابت ہوا۔ پھر 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 19-A شامل کیا گیا، جس نے ہر شہری کو معلومات تک رسائی کا آئینی حق دیا۔ اس کے بعد دیگر صوبوں نے اپنے اپنے قوانین پاس کیے مگر بلوچستان اس دوڑ میں سب سے پیچھے رہا۔ اس تاخیر کے دوران کئی بڑے کرپشن اسکینڈلز نے یہ ثابت کیا کہ اگر بروقت شفافیت کو قانونی حیثیت دی جاتی تو عوام کے اربوں روپے کے نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان کے گھر سے اربوں روپے کی برآمدگی اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔
اس قانون کے وجود میں آنے کے پیچھے سول سوسائٹی کی طویل جدوجہد شامل ہے۔ ایڈ بلوچستان اور اس کے تحت قائم پبلک اکاﺅنٹیبلٹی فورم نے کئی سال تک مہم چلائی، سیمینارز کیے، عوامی رائے عامہ کو ہموار کیا اور اراکین اسمبلی پر دباﺅ ڈالا کہ وہ اس قانون کو منظور کریں۔ یہ مسلسل محنت ہی تھی کہ بالآخر 2021 میں صوبائی اسمبلی نے اس ایکٹ کی منظوری دی اور بلوچستان بھی ان صوبوں کی فہرست میں شامل ہوگیا جہاں جدید دور کا رائٹ ٹو انفارمیشن قانون نافذ ہے۔
لیکن افسوس کہ چار سال گزرنے کے باوجود یہ قانون ابھی تک اپنی روح کے مطابق فعال نہیں ہو سکا۔ گزشتہ برس حکومت نے دو کمشنرز تعینات کیے، مگر تاحال چیف انفارمیشن کمشنر اور ایک اور کمشنر کی تقرری عمل میں نہیں لائی گئی۔ کمیشن کا دفتر قائم نہیں کیا گیا، نہ بجٹ دیا گیا اور نہ ہی عملہ فراہم کیا گیا۔ یوں دو کمشنرز کاغذی طور پر تو موجود ہیں مگر اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف عوام کے بنیادی حق کی نفی ہے بلکہ قانون کے ساتھ ایک مذاق بھی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بلوچستان کے عوام کو آئینی اور قانونی طور پر تو معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے لیکن عملاً وہ آج بھی اس سہولت سے محروم ہیں۔ نوجوان نسل، جو شفافیت اور احتساب کی سب سے بڑی خواہش مند ہے، اس غیر یقینی صورت حال سے سب سے زیادہ مایوسی کا شکار ہو رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس اہم قانون کا وجود بھی صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود رہ جائے گا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فوری طور پر چیف انفارمیشن کمشنر اور دیگر کمشنر کی تقرری کرے، کمیشن کو دفاتر، بجٹ اور عملہ فراہم کرے اور ہر سرکاری ادارے کو پابند کرے کہ وہ معلومات proactively عوام کے سامنے لائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی تاکہ عوام کو اس حق کے استعمال کے بارے میں شعور دلایا جاسکے۔
بلوچستان میں ترقی اور انصاف کا خواب اس وقت تک ادھورا رہے گا جب تک شفافیت اور جوابدہی کو عملی طور پر یقینی نہیں بنایا جاتا۔ رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون صرف ایک کاغذی کارروائی نہیں بلکہ صوبے کے روشن مستقبل کی چابی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت محض دعوے اور تقاریر پر اکتفا کرنے کے بجائے اس قانون کو فعال بنائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور صوبہ حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔
آج جب دنیا بھر میں معلومات تک رسائی کا دن منایا جا رہا ہے تو بلوچستان کے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹوسٹ بھی یہ دن اس عزم کے ساتھ منا رہے ہیں کہ حکومت بلوچستان اس اہم قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی اور یوں صوبے میں شفافیت، احتساب اور حقیقی ترقی کا خواب شرمندہ. تعبیر ہوسکے گا۔


