بچوں کے حقوق، خواب سے حقیقت تک

تحریر: افنان شاہ

بچہ کائنات کی سب سے حسین تخلیق ہے۔ اُس کی معصوم مسکراہٹ امید کا پیغام ہے اور اُس کی معصوم آنکھیں آنے والے کل کی جھلک دکھاتی ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہماری دنیا میں یہی سب سے کمزور اور نظرانداز کیا جانے والا طبقہ ہیں۔ بچوں کے حقوق کتابوں اور تقریروں تک محدود ہیں، عملی زندگی میں اُنہیں اکثر پامال کر دیا جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کنونشن برائے حقوقِ طفل (1989ء) صاف اعلان کرتا ہے کہ ہر بچے کو زندگی، تعلیم، تحفظ، صحت اور اظہار کا حق حاصل ہے۔ مگر حقیقت میں لاکھوں بچے آج بھی بھوک اور غربت کے ہاتھوں اپنی معصومیت کھو بیٹھتے ہیں۔ کہیں چھوٹے ہاتھ اینٹوں اور مشینوں کے نیچے دبے ہیں، تو کہیں کم عمری کی شادی اُن کے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔

یہ صرف قانون کی ناکامی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی ہے۔ جب معاشرہ کسی بچے کو تعلیم سے محروم کرتا ہے تو وہ دراصل اپنی ترقی کے دروازے بند کرتا ہے۔ جب ہم بچوں کی آواز نہیں سنتے تو ہم اپنے مستقبل کو گونگا بنا دیتے ہیں۔

صحافت اور میڈیا کا کردار یہاں نہایت اہم ہے۔ ایک صحافی جب کسی مظلوم بچے کی کہانی دنیا تک پہنچاتا ہے تو وہ محض ایک خبر نہیں لکھتا، بلکہ ظلم کے خلاف علم بلند کرتا ہے۔ یہ کہانیاں یاد دہانی ہیں کہ خاموشی ظلم کو مزید طاقت دیتی ہے، اور آواز انصاف کی پہلی سیڑھی ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بچوں کو صرف ہمدردی کا نہیں بلکہ حق کا درجہ دیں۔ اسکول، کھیل، صحت اور محبت اُن کا حق ہیں، خیرات نہیں۔ ہمیں بچوں کو سماج کے مرکز میں رکھنا ہوگا، اُنہیں شریکِ فیصلہ بنانا ہوگا، اور اُن کے خوابوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔

اصل میں بچوں کے حقوق کا تحفظ، انسانیت کا تحفظ ہے۔ ہر بچہ کل کا معمار ہے۔ اگر ہم اُن کے بچپن کو محفوظ کر لیں تو ہم اپنے مستقبل کو بھی محفوظ بنا لیتے ہیں۔

یاد رکھو: معاشرے کی اصل پہچان اُس کے محلوں اور عمارتوں سے نہیں، بلکہ اُس کے بچوں کی ہنسی اور خوشبو سے ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں