بلوچستان ہائیکورٹ نے صوبے بھر میں فعال و غیر فعال اسکولوں، اساتذہ کی تعداد، خالی اسامیوں کی رپورٹ طلب کرلی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ کوئٹہ بنچ نے ایک اہم آئینی مقدمہ کی سماعت کے دوران محکمہ تعلیم بلوچستان سے کوئٹہ میں تعینات دیگر اضلاع کے اساتذہ کے حوالے سے مکمل ریکارڈ اور رپورٹ طلب کرلی ہے۔ یہ حکم قائم مقام چیف جسٹس جناب محمد کامران خان ملک خیل اور جسٹس جناب گل حسن ترین نے آئینی درخواست نمبر 479/2024 خیر محمد شاہین بنام ڈائریکٹر ایجوکیشن و دیگرکی سماعت کے دوران جاری کیا۔ سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہی حق بلوچ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سرکاری فریقین کی جانب سے پیرا وائز کمنٹس جمع کرائے جا چکے ہیں اور عدالت کی ہدایت پر اساتذہ کی فہرست بھی پیش کر دی گئی ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ کی فہرست کے مطابق کوئٹہ میں دیگر اضلاع کے 224 اساتذہ تعینات ہیں، جبکہ درخواست گزار کی فہرست میں یہ تعداد 209 ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم درخواست گزار خیر محمد شاہین جو خود عدالت میں پیش ہوئے نے اس موقف کو سختی سے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت میں کوئٹہ میں چار ہزار سے زائد اساتذہ تعینات ہیں جو دیگر اضلاع سے تبادلہ ہوکر آئے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ تعیناتیاں محکمہ تعلیم کی پالیسی 2025 کے سراسر خلاف ہیں جس میں واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ اساتذہ اپنے متعلقہ اضلاع میں خدمات انجام دیں۔ عدالت نے اپنے عبوری حکم نامے میں کہا کہ اس مرحلے پر ضروری ہے کہ درخواست گزار واضح اعداد و شمار کے ساتھ مکمل تفصیل عدالت میں پیش کرے تاکہ معاملے کا حقیقی جائزہ لیا جاسکے۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ ڈائریکٹر ایجوکیشن (اسکولز) بلوچستان کی جانب سے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہوں، صوبے بھر میں اسکولوں (لڑکوں اور لڑکیوں) کی کل تعداد پرائمری، مڈل اور ہائی سطح پر فعال اسکولوں کی تعداد غیر فعال اسکولوں کی تفصیلات اور ان کے غیر فعال ہونے کی وجوہات، پرائمری سے ہائی اسکول سطح تک (بی پی ایس 9 تا 15) اساتذہ کی مجموعی تعداد، کل منظور شدہ اسامیوں کی تعداد، خالی اسامیوں کی تفصیل اور ہر اسامی کے خالی ہونے کی وجوہات، وفات، ریٹائرمنٹ، استعفی، تبادلہ، ڈیپوٹیشن، ازدواجی پالیسی، سیکورٹی خدشات، چھٹی یا دیگر وجوہات۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ یہ رپورٹ ڈائریکٹر اسکولز کی دستخط شدہ ہو اور متعلقہ اضلاع کے ضلعی تعلیمی افسران (مرد و خواتین) کے حلف ناموں کے ساتھ منسلک کی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر درخواست گزار کے موقف کے مطابق ہزاروں اساتذہ کوئٹہ میں تعینات ہیں تو یہ صوبائی تعلیمی پالیسی کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس سے دیگر اضلاع میں تعلیمی نظام شدید متاثر ہورہا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے کی مکمل جانچ اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔کیس کی مزید سماعت 24 نومبر 2025 کو مقرر کی گئی ہے۔


