ڈپٹی کمشنر کیچ کے اسکواڈ پر بم حملہ، فائرنگ سے 9 اہلکاروں سمیت 10 افراد زخمی ہوگئے، پولیس ذرائع
تربت (نامہ نگار)تربت شہر میں ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کے اسکواڈ کو ا±س وقت دہشت گرد حملے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے گھر سے دفتر جا رہے تھے۔ سٹی پولیس تھانے کے قریب موٹر سائیکل میں نصب بم زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے بعد ملزمان نے فائرنگ بھی کی۔ دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 9 اہلکاروں سمیت دس افراد زخمی ہو گئے، تاہم ڈپٹی کمشنر خود اس حملے میں محفوظ رہے۔ موٹر سائیکل میں نصب بم ریموٹ یا ٹائمر کے ذریعے پھٹایا گیا، جس کے فوراً بعد فائرنگ کی گئی۔ دھماکے سے اسکواڈ میں شامل ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ قریب کھڑی چھ دیگر گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔ زخمیوں میں لیویز اہلکار شبیر احمد ولد گل محمد ساکن دشتی بازار، نظام الدین ولد نذر محمد ساکن تنزگ، راجہ احمد ولد اللہ داد ساکن چاسر، عبدالغفار ولد محمد حسین ساکن آپسر، بلال احمد ولد ارباب سکنہ سنگانی سر، صدام حسین ولد نور محمد ساکن پنجگور، عباس ولد عبدالنبی ساکن کوئٹہ، نصیر احمد ولد عبدالمنان ساکن تنزگ، مزار ولد واحد بخش ساکن ناصر آباد اور ایک راہگیر عدیل احمد ولد حضور بخش ساکن آواران شامل ہیں۔ دھماکے کے فوراً بعد لیویز فورس، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر ٹیچنگ اسپتال تربت منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ پولیس اور سیکورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق موٹر سائیکل میں نصب بم ایک جدید قسم کا دھماکہ خیز مواد تھا، تاہم ابھی حملہ مخصوص طور پر ڈپٹی کمشنر کے قافلے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے واقعے کے بعد تربت شہر اور اطراف میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے۔ داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ حساس مقامات پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے اسپتال پہنچ کر زخمی اہلکاروں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بزدلانہ کارروائی ہے، عوام اور انتظامیہ دہشت گردی کے سامنے جھکنے والے نہیں، ہم اپنے فرائض پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ انجام دیں گے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور شواہد کی روشنی میں جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔


