بلوچستان کے تمام بارڈر بند ہیں سمگلنگ اب بھی ہورہا ہے، حافظ حمد اللہ

کوئٹہ( آئی اےن پی)جمعیت علما اسلام کے مرکزی رہنماءمولانا حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے پچیس کروڑ عوام ستائیسویں آئینی ترامیم کے ساتھ اتفاق نہیں رکھتے ہیں ترمیم اور قانون ملک و قوم کے مفاد میں ہوتا ہے ستائیسویں آئینی ترامیم نہ ملک اور نہ قوم کے مفاد میں ہے بلکہ دو افراد کے لئے قانون سازی کی گئی ملک میں اس وقت مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی عوام کی حقیقی نمائندگی کررہے ہیں بڑی بڑی پارٹیوں کے لیڈرشپ خاموش ہیں ملک میں ظلم اور جبر کا دور دورہ ہے دستور نہیں ہے جمہور کے رائے اور ووٹ کے بجائے نوٹ اور گوٹ کو اہمیت حاصل ہے اسلام کی پیغام تین باتوں پر ہے عالمگیر آزادی عالمگیر نظام اور عالمگیر انصاف پر ہے اسلام کا پیغام ہے کہ بندے کو بندے کے غلامی سے نجات دلاکر اللہ تعالی کے غلامی اور بندگی کریں ہم ظلم اور جبر کے خلاف ہیں طاقتور ضابطہ قاعدہ اور قانون سے کام نہیں لے رہا ہے ظالم کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگا ظالم کے ظلم کو منظر عام پر لانا ہوگا مجدد اور ملا مبارک ناگوری و ملا دو پیازہ میں فرق ہے مجدد نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے تاریخ میں میر جعفر میر صادق موجود ہیں مگر تاریخ میں ٹیپو سلطان محدث دہلوی شاہ عبد العزیز اور سراج الدولہ بھی موجود ہیں آج بھی میر جعفر اور۔ میر صادق کا کردار موجود ہیں سیاہ کپڑوں خاکی کپڑوں اور سفید کپڑوں میں موجود لوگ دین اسلام سے کھیل رہے ہیں سچ اور جھوٹ کا سب کو علم ہے علما کو قوم کا اعتماد اور بھروسہ چاہیے توو دنیا اور سرمایہ سے پیچھے ہٹنا ہوگا دین کے بجائے سرمایہ دار کو عزت دوگے تو اسلام اور مسلمانوں کا رعب اور دبدبہ ختم ہوگا دنیا میں دو ارب مسلمان ہیں جبکہ اسرائیل کی آبادی اسی لاکھ ہے اسرائیل کے آس پاس گیارہ کروڑ ابادی مسلمانوں کی ہیں تین سو تیرہ اسی ہزار اور بارہ ہزار مسلمان لاکھوں کفار کو شکست دے رہے تھے تو اس وقت اسلام اور مسلمانوں کا رعب و دبدبہ برقرار تھا کیونکہ رعب اور دبدبے کے پیچھے مسلمانوں کا اعلی کردار تھا ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ اسلامیہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ میں سالانہ دستار فضیلت کانفرنس و ختم بخاری کے جلسہ عام اور مدرسہ عربیہ تجوید القرآن میں دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس سے شیخ الحدیث مولانا محمد زیب شیخ الحدیث مولانا شیخ سید اللہ آغا جمعیت علما اسلام کے مرکزی رہنما ضلع پشین کے سابق امیر مولانا عزیز اللہ حنفی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا حافظ محمد ہمایوں ناظم مولانا نصرالدین مولانا مزمل اخنذادہ مولانا نصرالدین مولوی ظفر اللہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ مولانا حافظ حمداللہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں اسلام برہنہ ہے اسلام نے ہمیں عدالتی نظام معاشی نظام سیاسی نظام اور حکومتی نظام دیے ہیں اسلام ہی ہم کو کلچر ثقافت اور تہذیب سکھاتے ہیں اسلام فرد کے بجائے اجتماعی نظام کا نام ہے آزادی اسلام سے ممکن ہے غلامی سے نہیں ہےسوڈان میں لیبیا میں غزہ میں جنگیں معدنیات ایران میں گیس اور تیل پاکستان کے معدنیات پر سامراجی طاقتوں کا کنٹرول ہوگا ٹرمپ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ وینزویلا صدر منشیات کا کام کررہا تھا پاکستان غزہ و فلسطینوں کے قاتل ٹرمپ کو نوبل امن کا انعام دے رہے ٹرمپ نے غزہ افغانستان یمن مصر اورشام میںمسلمانوں کا قتل عام کیا پاکستان غزہ میں فوج بھیج رہا ہے پاکستان کے پچیس کروڑ عوام ریاست سے سوال کررہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کررہے ہو تو دراصل اسرائیل کی دفاع کا جنگ ہے قوم نے اسلحہ اور وردی اسرائیل کے دفاع کے لئے نہیں دی حماس سے جنگ کے لئے فوج کو بھیجنا عوام کے منشا اور مرضی کے مطابق ہوگا اصل میں گریٹر اسرائیل کا آغاز ہے بلوچستان میں معیشت زراعت بارڈر کا کاروبار بند کیا ہے جس کے اثرات پورے صوبے کے عوام پر پڑ رہے ہیں تمام بارڈر بند ہیں سمگلنگ اب بھی ہورہا ہے سمگلنگ اب بھی ہے سمگلنگ کون لوگ کررہے وہی جو ہم نے چوکیدار بنایا ہے روس امریکہ افغانستان آیا تو بارڈر بند نہیں ہوا اب کیوں بند ہے طالبان کے دور میں انڈیا ایک سفارتخانہ ہے جبکہ سابقہ حکومتوں میں سولہ انڈین قونصلیٹ کام کررہے تھے خواجہ آصف کہہ رہا ہے کہ پاکستان نے دو جنگیں کرایہ پر لڑا ہے ملک میں حکومت نہیں ہے عوام کی حکومت نہیں ہے عوام کے منتخب نہیں بلکہ طاقت اور پیسوں سے سیاسی جمہوری پارٹی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو 47 کہتے ہیں عوام کی نمائندگی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ سب دولت اور طاقت کے بنیاد پر سلیکٹ کئے گئے ہیں ہم نے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگا ہم مظلوم کے ساتھ ہیں ملک میں نیا انتخابات کیا جائے اسٹیبلشمنٹ ووٹ اور سیاست میں مداخلت نہ کریں وردی والوں کو اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے صاف شفاف انتخابات کیا جائے ملک کے سیاست میں اسٹیبلشمنٹ مداخلت کرتے ہیں لیویز پولیس ایف سی اور فوجی اپنے دائرہ اختیار میں کام ہوگا تو بہتری آئے گی ہندوستان سے جنگ جیتی ہے مبارکباد پیش کرتے ہیں علما کرام قوم کی رہبری اور نمائندگی اس صورت میں کرسکتے ہیں کہ مفادات سے ہٹ کر جدوجہد کرنا ہوگا ستائیسویں آئینی ترامیم پر ملک کے بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں کے قیادت خاموش ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں