ایران میں حالیہ بغاوت کی منصوبہ بندی امریکہ نے کی، آیت اللہ خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور تشدد میں امریکا اور اسرائیل براہِ راست ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی پشت پناہی سے ہونے والے احتجاج نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔ مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل پر تشدد میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام لگایا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا۔آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران امریکا اور اسرائیل سے وابستہ عناصر نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی۔ مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بدامنی ماضی کے واقعات سے مختلف تھی کیونکہ اس بار امریکی صدر نے خود براہِ راست مداخلت کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ امریکا کی منصوبہ بندی تھی اور اس کا مقصد ایران کو نقصان پہنچانا تھا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے فارسی زبان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرجاری ایک پیغام میں ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ اور امریکہ کے خلاف بیانات پر سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’اگر اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کے اثاثوں پر حملہ کرے گا تو اسے ایک نہایت طاقتور ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ان کے سامنے تمام آپشنز موجود ہیں۔‘


