دنیا بھر میں اپوزیشن لیڈر شیڈو پرائم منسٹر ہوتا ہے، پاکستان میں اسے غدار بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ
کوئٹہ (یو این اے) بلوچستان ہائی کورٹ نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو معطل کر دیا ہے۔ معزز ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ، جس میں چیف جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین شامل تھے، نے کیس کی سماعت کی۔ محمود خان اچکزئی کی جانب سے عدالت میں سینیٹر کامران مرتضی ایڈوکیٹ، سینئر وکیل ریاض احمد خان ایڈوکیٹ اور حبیب اللہ ناصر ایڈوکیٹ پیش ہوئے اور کیس کی پیروی کی۔ عدالتِ عالیہ نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مقدمے پر عملدرآمد روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کرائے۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حبیب اللہ ناصر ایڈوکیٹ نے بتایا کہ محمود خان اچکزئی کے خلاف درج کی گئی غیر قانونی اور جھوٹی ایف آئی آر کو ہم نے بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے ہمارے دلائل سننے کے بعد ایف آئی آر پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے، اور اس فیصلے سے آئین، قانون اور پرامن سیاسی آزادی کو یقینا تحفظ ملے گا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضی ایڈوکیٹ نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اپوزیشن لیڈر کو متبادل وزیراعظممانا جاتا ہے، لیکن افسوس کہ پاکستان میں اسے غدار بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماﺅں پر ایسے غداری کے مقدمات قائم کرنے پر ہم سب کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے، اب اسٹیٹ کو عدالت میں جواب دینا ہوگا کہ ایسی غلط ایف آئی آر کیوں درج کی گئی۔


