ایرانی دشمنی مذاکرات اور علاقائی تعلقات کو سبو تاژ کر رہی ہے، جی سی سی کا بحرین، کویت اور اردن پر ایران کے حملوں کی مذمت

منامہ میں بدھ کو خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے وزارتی اجلاس میں بحرین، کویت اور اردن پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ ایران کے تازہ حملوں کو علاقائی سالمیت کے خلاف صریح جارحیت، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ’ ایران کی دشمنانہ کارروائیاں، افہام و تفہیم کے بجائے دوریاں اور فاصلوں کو بڑھاتی، باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہی ہیں اور بات چیت کے دروازے بند رہی ہیں۔‘ ’جی سی سی کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ جارحیت سے تعلقات استوار نہیں ہوتے اور نہ دھمکیاں، استحکام کو فروغ دے سکتی ہیں۔ ایران کا مسلسل جارحانہ رویہ مزید تنہائی کا باعث بنے گا۔‘ اجلاس میں کہا گیا کہ ’جی سی سی ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیتیں مستحکم ہیں۔ جی سی سی قائدین خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے پرعزم ہیں۔‘کونسل نے اردن کویت اور بحرین کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ ’خلیجی ریاستوں کی سلامتی نا قابل تقسیم ہے اور کسی ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ ہے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں