کہ صوبے میں حالیہ بارشوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،لیاقت شاہوانی
کوئٹہ: ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہاہے کہ صوبے میں حالیہ بارشوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم بولان کے علاقے حاجی شہر کو سیلابی ریلے سے نقصان پہنچنے کے خدشہ کے باعث لوگوں کو محفوظ مقامات کی منتقلی شروع کردی گئی ہے یہ بات انہوں نے جمعرات کو آفیسر ز کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ حکومت نے بارشوں اورسیلابی صورتحال کے پیش نظر بھرپورحکمت عملی تیارکی ہے بارشوں اورسیلابی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت کی مشینری فعال ہے،انہوں نے کہاکہ دریائے ناڑی میں اس وقت پانی کی سطح اوپر ہے، اس وقت ایک لاکھ 40ہزارکیوسک پانی کاریلہ گزررہاہے،لیاقت شاہوانی نے بتایاکہ حب ڈیم میں پانی کی سطح 338اعشاریہ پانچ تک پہنچ گئی ہے،ڈیم بھرنے کے بعد اسپل وے سے پانی کے اخراج کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال بن سکتی ہے،اس صورت حال کے باعث حب ڈیم کے قریب نشیبی علاقوں سے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیاجارہاہے۔انہوں نے کہا کہ جیکب آباد بلوچستان سرحد پر سیم شاخ اور مکران میں عمرانی ڈیم گوادر کے ساوار اور آکڑا ڈیم بھر چکا ہیں بی بی نانی پل اور مچھ پل سفر کیلئے بند ہیں صوبے میں مزید تیز بارشوں کے امکانات ہیں انہوں نے کہا کہ ڈیڑہ بگٹی میں کچے مکانات مہندم ہیں املاک کے نقصانات کا اندازے لگانے کیلئے سروے جلد ہوگا انہوں نے کہا کہ کورونا کے بڑھنے کی شرح تین سے اچانک بائیس فیصد ہوئی ہے پانچ دنوں میں کوئٹہ میں ایک سو اکسٹھ کیسسز آئے ہیں انہوں نے کہا کہ چھ فٹ کا فاصلہ رکھ کر عزاداری اور مجالس منعقد کی جائیں امام بارگاہوں اور مساجد میں کارپٹ کے استعمال سے گریز کیا جائے عشرہ محرم کے دوران ڈسپوزایبل برتن استعمال کئے جانے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ایک سو چار امام بارہ گاہوں میں مجالس جاری ہیں عوام ایس او پیز کا خیال رکھیں سیلابی صورتحال میں کورونا کے کیسسز بڑھے تو تعلیمی نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے یوم عاشورہ کے بعد کیسسز بڑھے تو حکومت کو بامر مجبوراً دوبارہ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑسکتا ہے


