تربت، ڈیزل بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کوتنگ کرنے کے خلاف خواتین اورمتاثرین کااحتجاج

تربت:تربت، ایرانی سرحدپر عبدوئی بارڈر پرفورسز کی جانب سے ڈیزل بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کوتنگ کرنے کے خلاف خواتین اورڈرائیوروں کااحتجاج، تربت چوک وملحقہ علاقے میں دوکانیں بھی بندکرادیں، تفصیلات کے مطابق ایرانی سرحدکی بندش اور عبدوئی بارڈر پر چھوٹی ڈیزل بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کوبلاوجہ تنگ کرنے کے خلاف مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں خواتین اور ڈرائیوروں نے جمعرات کو شہید فدا چوک اور ڈی سی ہاؤس کے سامنے گزرنے والی ایڈوکیٹ روڈ بلاک کر کے احتجاج کیا، مظاہرہ میں شامل مرد و خواتین نے اس امرپر احتجاج کیاکہ ایران سے ملحقہ عبدوی بارڈر پر کئی دنوں سے چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے گاڑیوں کو روک کر ڈرائیوروں سے جبری بلا معاوضہ مزدوری کاکام لیا جاتاہے، بارڈر پر تعینات سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کارویہ انتہائی نامناسب اورہتک آمیز ہے ایک طرف ڈرائیوروں سے جبری کام لیاجاتاہے دوسری جانب اس سرحدی علاقہ میں کسی قسم کی سہولیات دستیاب نہیں، سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹی گاڑیاں روزانہ بارڈر پر جاتی ہیں جہاں پر انہیں کئی کئی دنوں تک روکا جاتاہے، دو ہفتوں سے سینکڑوں گاڑیاں بارڈر پر کھڑی ہیں جبکہ عبدوئی بارڈر پر تجارت کی اجازت کا اعلان بھی کیا گیا ہے مگر اس کے باوجود ڈرائیور کے ساتھ ہتک آمیز سلوک جاری ہے،مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بارڈر ٹریڈ کو قانونی شکل دے کر مکران میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور جتنے ڈرائیور دو ہفتوں سے بارڈر پر روکے گئے ہیں ان کو فوراً چھوڑ دیا جائے،اس دوران مظاہرین نے اپنے مطالبات پیش کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کی کوشش میں ناکامی پر مین چوک سے ملحقہ دوکانیں ومارکیٹیں بند کرادیں،مظاہرین میں شامل خواتین نے مین روڈ اور ڈی سی ہاؤس کے سامنے گزرنے والی سڑک کو بلاک کردیا، ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھیں جن پر مطالبات درج تھے، احتجاجی مظاہرہ میں بی ایس اوپجارکے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن بوہیر صالح ایڈووکیٹ، بی ایس اوکے سابق رہنما محمدجان کریم، وسیم زعمرانی، ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنما منیر احمدبزنجو سمیت دیگر شریک تھے، بی ایس اوپجارکے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن بوہیر صالح ایڈووکیٹ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ قوم کامعاشی قتل عام بندکیاجائے، بلوچستان میں پہلے سے ذرائع معاش ناپید ہیں لوگ مجبوری میں سرحد سے معمولی پیمانے پرکاروبارکرتے ہیں مگر ان محنت کشوں ومزدوروں کو سرحد پرتعینات فورسز محنت کش کے بجائے اسمگلرز کی نظرسے دیکھتے ہیں ان کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رویہ اپنایا جاتاہے جوناقابل قبول اورناقابل برداشت ہے، بلوچ محنت کش سے مزدوری کا حق نہ چھینا جائے،مزدور دشمن پالیسیاں بند کی جائیں اور یہاں کے عوام کوباعزت جینے کا حق دیا جائے، اس موقع پر انہوں نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی، بعد ازاں انجمن تاجران کے نائب صدر جمال مری کی سربراہی میں ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر کیچ میجر محمد الیاس کبزئی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور اس اہم مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا،ڈی سی کیچ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا، علاوہ ازیں گزشتہ شام بھی خواتین نے ڈی سی ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا اور عبدوئی بارڈر پر فورسزکے رویہ کی مذمت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں