بلوچستان میں دو سال کے دوران 60 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11سو دہشت مارے گئے ، حکام

کوئٹہ: صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، وزیراعلیٰ کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نےمیڈیا بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ بلوچستان سے متعلق گمراہ کن بیانات دیے جا رہے ہیں اور صوبے کا خیبر پختونخوا کے ساتھ موازنہ کرنا بالکل غلط اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود ماضی کے نازک ادوار اور دہشت گردی کے تلخ تجربات سے گزر چکی ہے، اس کے باوجود ان کی جانب سے سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان کے حوالے سے دیا گیا بیان افسوسناک ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو ہمیشہ حکومتی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومتِ بلوچستان اس جنگ میں فورسز کے ساتھ پوری یکجہتی سے کھڑی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر خیبر پختونخوا کی سابق حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے وفاق اور افواج کا ساتھ دیتی تو وہاں ایمرجنسی کی نوبت نہ آتی، موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام ادارے اور قیادت مشکل حالات سے نکلنے کے لیے ریاست کا ساتھ دیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے معاون برائے اطلاعات شاہد رند نے کہا کہ یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت مائنز اینڈ منرلز ایکٹ منظور نہ کرنے کی وجہ سے ختم ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو مکمل اعتماد میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے کی حکومت نے سرکاری وسائل اور مشینری کو اپنے سیاسی مقاصد اور وفاق پر چڑھائی کے لیے استعمال کیا جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے کبھی ایسے مارچ کی باتیں نہیں کی گئیں۔ شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جتنے بھی قوانین بنے ہیں ان کی نہ صرف کابینہ بلکہ صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظوری دی اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے تمام قانون سازی اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر کی ہے۔

اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے حکومت کی دو سالہ کارکردگی اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتِ بلوچستان نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف بے مثال اقدامات کیے۔ بلوچستان ملک کا پہلا صوبہ ہے جہاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 18 نئے قوانین منظور اور 17 خصوصی ادارے و محکمے قائم کیے گئے۔ حساس مقدمات کے لیے فیس لیس کورٹس (خفیہ عدالتی نظام) قائم کی گئیں جہاں اب تک 90 ملزمان کے کیسز درج کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 11 لاکھ غیر قانونی افغان باشندوں کو بحفاظت اپنے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ قومی شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے بھی فول پروف سیکیورٹی اقدامات جاری ہیں۔ حمزہ شفقات نے بتایا کہ دو سال کے دوران مختلف علاقوں میں 60 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور چھاپے مارے گئے جن کے نتیجے میں 1100 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ 450 کو گرفتار کیا گیا۔ ان کارروائیوں کے دوران پولیس اور فورسز کے 300 سے زائد بہادر اہلکار و افسران جبکہ 551 بے گناہ شہری دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ داخلہ کے نظام اور تمام اسلحہ لائسنسز کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور قانونی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے