سرحدی تجارت کی فوری بحالی کے لیے وفاقی حکومت سے موثر انداز میں رجوع کیا جائے، رحمت صالح بلوچ کا بلوچستان حکومت سے مطالبہ
ویب دیسک :نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے پاک ایران سرحد کی بندش اور سرحدی تجارت کی معطلی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو درپیش معاشی مشکلات، زمینداروں کے نقصانات اور سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خدشات کے پیش نظر سرحدی تجارت کی فوری بحالی کے لیے وفاقی حکومت سے مو¿ثر انداز میں رجوع کیا جائے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ افغان سرحد پہلے ہی بند ہے، جبکہ اب پاک ایران سرحد تفتان اور رمدان کے راستوں سے تجارت بھی بند کر دی گئی ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں تجارتی گاڑیاں پھنس گئی ہیں اور درآمدات و برآمدات کا سلسلہ معطل ہو کر رہ گیا ہےسرحدی راستوں کی بندش سے نہ صرف تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اس کے منفی اثرات بلوچستان کی معیشت، زراعت اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرحدی تجارت کی بندش کے باعث گاڑیوں میں موجود پھلوں اور سبزیوں کے خراب ہونے کا خدشہ ہے، جس سے زمینداروں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بلوچستان کے زمیندار پہلے ہی مختلف معاشی مسائل اور بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات سے دوچار ہیں، ایسے میں زرعی اجناس کی ترسیل اور برآمدات میں رکاوٹ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سرحدی تجارت جلد بحال نہ کی گئی تو زرعی شعبے سے وابستہ افراد کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحدی تجارت کی بندش سے سرحدی علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قلت اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ ان علاقوں کی معیشت کا بڑا حصہ سرحد پار تجارت سے وابستہ ہے اور ہزاروں افراد براہِ راست یا بالواسطہ اسی کاروبار کے ذریعے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ تجارتی سرگرمیاں رکنے سے مزدوروں، ڈرائیوروں، چھوٹے تاجروں اور دیگر محنت کش طبقوں کے روزگار کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انہوں نےکہا کہ ایل پی جی کے سینکڑوں ٹینکرز بھی سرحدی بندش کے باعث کھڑے ہیں جس سے ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سرد موسم میں جب گیس کی دستیابی پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہوتی ہے ایسے میں ایل پی جی کی عدم فراہمی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گی اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو عام شہریوں کو شدید پریشانی اور اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے لاکھوں خاندانوں کا روزگار اور گزر بسر سرحدی کاروبار سے وابستہ ہے۔ ان خاندانوں کے لیے سرحدی تجارت محض کاروبار نہیں بلکہ روزمرہ ضروریات پوری کرنے اور اپنے بچوں کی کفالت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ سرحدوں کی مسلسل بندش سے ان خاندانوں کی معاشی مشکلات بڑھ سکتی ہیں، جبکہ غربت، بھوک اور بیماریوں کے مسائل سنگین صورت اختیار کر کے انسانی المیے کو جنم دے سکتے ہیں۔میر رحمت صالح بلوچ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کے عوام کے معاشی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے اس اہم مسئلے کو فوری طور پر وفاقی حکومت کے سامنے اٹھائے اور متعلقہ حکام سے رابطہ کر کے سرحدی تجارت کی بحالی کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے عوام کو معاشی مشکلات سے نکالنے، زمینداروں کو ممکنہ نقصانات سے بچانے اور اشیائے ضروریہ کی بلاتعطل فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ سرحدی راستے فوری طور پر کھولے جائیں اور تاجروں، زمینداروں اور محنت کشوں کو آزادانہ طور پر اپنا کاروبار کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔


