کوئٹہ ماسٹر پلان تکمیل کے مراحل میں ہے، سینٹ انتخاب اتحادیوں سے ملکر لڑینگے، جام کمال

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ حکومت بلوچستان صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں عوام کو سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے بلکہ شہر کیلئے ماسٹرپلان تکمیل کے قریب ہے،پانی سمیت دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کئے جارہے ہیں،شہر میں 6سپورٹس کمپلیکس،تفریحی سہولیات،مواصلاتی نظام کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے،کورونا وائرس کے ایس اوپیز پرعملدرآمد فقدان کاشکار رہا،سینیٹ کی خالی نشست پر انتخابات میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کرحصہ لیں گے،ان خیالات کااظہار انہوں نے نواں کلی میں زیر تعمیر باچا خان ہسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراء انجینئر زمرک خان اچکزئی،میرضیاء اللہ لانگو،میر سلیم کھوسہ،عبدالخالق ہزارہ،پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند ودیگر بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ نواں کلی میں باچاخان ہسپتال کادورہ کیا ہے،کوئٹہ میں صحت کی سہولیات کومدنظررکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے یہ کوشش کی کیونکہ کوئٹہ شہر بہت پھیل رہاہے اور یہاں بائی پاس بن رہاہے،کوئٹہ کے اندر نیا شہر بنے گا، ڈیڑھ سال قبل ہم نے یہاں نسٹ کیمپس اور ہسپتال کا افتتاح کیا تھا جہاں وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف بھی آئے تھے،انہوں نے کہاکہ یہاں صحت کی سہولیات کی بہت زیادہ ضرورت ہے،شہر میں سب سے زیادہ رش سول ہسپتال میں ہوتاہے،شیخ زید ہسپتال کو فعال کیا اور وہ بہتر انداز میں کام کررہاہے 8ماہ قبل وہاں کینسر ہسپتال کاافتتاح کیا تاہم کورونا وائرس اور پی سی ون ایشوز کی وجہ سے چونکہ کینسر ہسپتال مختلف بنتاہے اور چار سے پانچ دن میں کینسر ہسپتال کام شروع ہوجائے گا،ایک نئی آبادی پھیل رہی ہے، سول ہسپتال میں کارڈیک وارڈ بنایا تھاضروریات جو بنیادی انفراسٹرکچر ہو یا صحت ہو یا تعلیم ہو پر ترجیح دے رہے ہیں،کوئٹہ کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورت صحت، روڈ اور بنیادی سہولیات جس میں سریاب روڈ،ویسٹرن بائی پاس،بادینی لنک روڈ، سرکی روڈ پر کام جاری ہے،انفراسٹرکچر ودیگر پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے امید ہے کہ دسمبر تک 6سپورٹس کمپلیکس تکمیل تک پہنچ جائے گا،بلکہ دو بڑے سپورٹس کمپلیکس سریاب ریڈیو پاکستان کی زمین اور دوسراکچلاک میں تعمیر کیاجائے گا،کوئٹہ کا ماسٹرپلان فائنل ہوچکاہے کوئٹہ پاکستان چند ان شہروں میں سے ہوگا جو اپنے ماسٹرپلان کی طرف جائے گا،دو سے تین ڈیمز کا کام جاری ہے جو کوئٹہ کے پانی کے مسئلے کے حل کیلئے سود مند ہوگا،انہوں نے کہاکہ تمام ضروریات کو مدنظررکھتے ہوئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،اور امید ہے کہ کوئٹہ دو سے تین سال بعد یہ شہر مختلف ملے گا، سرکاری سکولز ایس اوپیز کو فالو کرینگے تاہم خدشہ ہے کہ پرائیوٹ سکولز نہ کرپائیں کیونکہ وہ مالی بحران کے شکا رہیں اور مشکل وقت کاسامنا کررہے ہیں،حکومت بلوچستان نے محکمہ تعلیم کے ایک ہزار سے زائد لوگوں کو تربیت فراہم کی ہے انہوں نے کہاکہ مختلف محکموں داخلہ،صحت،ہائیرایجوکیشن اور سیکنڈری ایجوکیشن اسٹریٹجی کے تحت کام کررہی ہے،محکمہ صحت کی جانب سے سفارشات کے بعد سکولز کھولے جائیں گے تاہم پہلے مرحلے میں ہائیرایجوکیشن کھولے جائیں،پاکستان میں خاص کر سب کو پتہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد اس طرح سے نہیں کیا جا رہا جیسا بیرون ممالک میں کیا جاتا ہے مزید اقدام صورتحال کاجائزہ لینے کے بعد اٹھایاجائے گا،سول ہسپتال کوئٹہ ڈائیلاسز کیلئے نہیں ہے تاہم اس حوالے سے کوشش کررہے ہیں کہ سول ہسپتال میں بیسک ڈائیلاسز بنایاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں