بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے سیاسی طریقے سے حل کیا جائے،کوئٹہ پریس کلب میں سیمینار
کوئٹہ؛وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کی اذیت کے نام سے کوئٹہ پریس کلب میں سیمینارمنعقد کیا گیا سمینار میں لاپتہ افراد کے لواحقین، سیاسی و طلباء تنظیموں کے لیڈران سمیت مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔سمینار سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ،این ڈی پی کے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ،بی این پی کے جاوید بلوچ،سابق سینیٹرمہیم خان بلوچ،پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ، ڈاکٹر حکیم لہڑی بی ایس او پجار کے اسرار بلوچ اور زبیر شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جبری طور پر لاپتہ کرنا ملکی و بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے جس شخص کو جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے اس کو صفائی کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا ہے اور اسکے خلاف یک طرفہ کاروائی کی جاتی ہے اور دوسری طرف لاپتہ شخص کے خاندان کو اس کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی جاتی جس کے وجہ سے اس کے خاندان ذہنی اذیت سمیت بہت سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں جو یقینا غیر آئینی اور غیر اخلاق فعل ہے اس لیے بین الاقوامی سطح پر جبری گمشدگی کو جرم قرار دیا گیا اور ریاستوں کی ہدایت کی گئی ہے کہ چاہے حالات جو بھی ہو ہر حال میں انسانوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے مقررین نے کہا کہ وفاقی سطح پر دوسال سے ایک قانون بنایا گیا ہے کہ ملک میں جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دیا جائے گا لیکن اب تک اس قانون کو پاس کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا ہے مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگی کو جرم کرار دینے والے قانون کو فوری طور پر قومی اسمبلی میں پیش کرکے منظور کیا جائے مقررین نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے لاپتہ پیاروں کی عدم بازیابی کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہے حکومت کو بے حسی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ لاپتہ افراد کے لواحقین کی فریاد کو سن کر انہیں ملکی قوانین کے مطابق انصاف فراہم کرے مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت اور ملکی ادارے ملکی سلامتی کے نام پر طاقت کے استعمال سے گریز کرے انہوں کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے سیاسی طریقے سے حل کیا جائے۔کیوں کہ اہل بلوچستان 70 سالوں سے احساس محرومی کے شکار ہے اور بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ جو ظلم و ذیادتیاں ہوئی ہے اس کی وجہ سے اہل بلوچستان میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کا اظہار اہل بلوچستان نے برمش اور حیات کے مسئلے بھرپور احتجاج کرکے کیا انہوں نے کہا کہ اب بھی حکومت اور مقتدرہ قوتوں کو ان چیزوں کا ادراک کرکے اہل بلوچستان کے زخموں پر مرہم پٹی کرکے محرومیوں اور ظلم ذیادتیوں کے ازالہ کرنے کا وقت ہیں تاکہ طاقت کے ذریعے ان آوازوں کو دبا کر خاموش کرنے کا وقت ہے کیونکہ جب پرامن آوازوں کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی جائے گی تو یہ آوازیں ناسور بن جاتے ہیں یقینا اس میں ملک کی بھلائی نہیں ہے۔


