بلوچستان کے سوا دیگر صوبوں کی جیلوں میں مقررہ گنجائش سے زائد قیدی

اسلام آباد :وفاقی محتسب سیکریٹریٹ نے جیلوں میں خواتین کی حالت زار کے حوالے سے ساتویں عملدرآمد رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے سوا باقی تمام صوبوں کی جیلوں میں مقررہ گنجائش سے زائد قیدی موجود ہیں۔وفاقی محتسب کی رپورٹ میں عدالت کو صوبوں میں جیلوں کی تعداد کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا، جس کے مطابق پنجاب میں 43، سندھ میں 24، خیبرپختونخوا میں 38 اور بلوچستان میں 11 جیل خانے ہیں۔رپورٹ میں فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں مجموعی طور پر 36 ہزار 806 قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں 48 ہزار 238 قیدی موجود ہیں، اسی طرح سندھ کی جیلوں میں 13 ہزار قیدیوں می گنجائش ہے جبکہ یہاں 17 ہزار 322 قیدیوں کو رکھا گیا ہے، خیبرپختونخوا میں 11 ہزار 170 قیدیوں کی گنجائش ہے جہاں 11 ہزار 891 قیدیوں کو رکھا گیا ہے،ان تینوں صوبوں کے برعکس بلوچستان کی جیلوں میں 2 ہزار 585 قیدیوں کی گنجائش ہے جہاں 2 ہزار 107 قیدی موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد 14 ہزار 412، سندھ میں 4 ہزار 985، کے پی کے میں 2 ہزار 896 جبکہ بلوچستان میں 734 ہے۔عدالت عظمیٰ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق انڈر ٹرایل قیدیوں کی تعداد پنجاب میں 30 ہزار711، سندھ میں 12 ہزار 337، کے پی کے میں 8 ہزار 995 جبکہ بلوچستان میں ایک ہزار 342 ہے۔پنجاب میں 829 خواتین جیلوں میں قید ہیں، سندھ میں یہ تعداد 230، کے پی کے میں 162 اور بلوچستان میں 23 خواتین قید ہیں۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 633 بچے، سندھ میں 205، کے پی میں 400 اور بلوچستان میں 35 بچے جیلوں میں قید ہیں۔دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عالمی وبا کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 5، سندھ 42، کے پی کے 34 اور بلوچستان میں 57 قیدی کووڈ 19 سے متاثر ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب کی جیلوں میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد 553، سندھ میں 61، کے پی کے میں 475 اور بلوچستان میں 65 مریض ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ چاروں صوبوں کی جیلوں میں منشیات کے عادی افراد اور ذہنی امراض کا شکار قیدیوں کو علاج کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے اسلام آباد ایچ 16 میں 72 کینال پر مشتمل 3.9 ارب روپے میں جیل خانہ بنانے کی منظوری دی ہے، اس کے علاوہ جیلوں میں تعلیم و تربیت اور خواتین، بچوں کیلیے علیحدہ جیل خانہ جات بھی بنائے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں