بلوچ سٹوڈنٹس کونسل ملتان کی طرف سے مخصوص نشستوں پرفیس وصولی کے خلاف احتجاجی کیمپ کا چوتھا دن مکمل
بلوچ سٹوڈنٹس کونسل ملتان کی طرف سے مخصوص نشستوں پربہاوالدین زکریا یونیورسٹی کی طرف سیاحتجاجی کیمپ کا چوتھا دن مکمل ہوا جس میں بلوچ طلبا نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے فیس وصولی کا فیصلہ حکومتی پالیسی کے برعکس ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں
اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے فیس وصولی کا فیصلہ واپس لے لیں۔۔ میڈیا نمائندوں سے بلوچ سٹوڈنٹس کونسل ملتان کے چئیرمین نے بات کرتے ہوئے کہا کہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں انتظامیہ کی جانب سے بلوچ اور پشتون طلبا سے تعصب کیا جاتا ہے اور انہیں آخری رول نمبر دے کر اساتذہ کرام کی طرف سے تضحیک امیز رویہ کاسامنا گزشتہ کئی سالوں سے رہا ہے
انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں شروع دن سے ایسے عناصر موجودہیں جو بلوچ اور پشتون طلبا کے یہاں آنیکے خلاف ہیں اور انہیں عناصر کی مہربانی سے پہلے یونیورسٹی انتظامیہ نے 2018 میں اوپن میرٹ پر سکالرشپ کا خاتمہ کیا اب انہوں نے 2020 سے کوٹے پرآئے ہوئے طلبا کیلیے فیس پالیسی لاگو کرنے کی پالیسی جاری کی ہے انہوں نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وی سی ڈاکٹرمنصور کنڈی نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے آگے یونیورسٹی کا خسارہ ظاہرکیا جس کی وجہ سے وہ ان طلباکو مزید نہیں پڑھاسکتے جبکہ انہوں نے ہمارے ساتھ ہوئی ملاقات میں صوبائی و وفاقی حکومت کا مشترکہ فیصلہ بتایاہے جبکہ جامعہ کی طرف سے جاری کی گئی نوٹیفیکشن میں بھی یہی بات کی گئی انہوں نے میڈیاکے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس سلسلے میں شروع دن سے اخباری بیانات کیذریعے تضادات ابھرے جبکہ اب انہوں نے نوٹیفیکشن جاری کرکے فیس پالیسی لاگو کرنے کی تصدیق کی جس کی وجہ سے ہم نے یہاں احتجاجی کیمپ لگایا جس کا آج چوتھادن ہے مگراب تک یونیورسٹی انتظامیہ اورحکومت کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی انہوں نے میڈیاکینمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ سٹوڈنٹس کونسل سمجھتی ہے کہ فیس وصولی پالیسی کی وجہ سے بلوچستان کیاکثر طلبا یہاں پڑھنے کی سکت نہیں رکھتے اور نہ ہی اس تعلیم دشمن پالیسی کی وجہ سے یہاں آئیں گے کیونکہ بلوچستان کے اکثر لوگ غریب و مفلوک الحال ہیں اس لیے!!ہم گورنر پنجاب،وزیراعلی پنجاب اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پرانی پالیسی کو بحال کرکے بلوچستان کے طلبا کو پڑھنے کا موقع دیں تاکہ وہ ترقی کیعمل میںِ شریک راہ ہوسکیں۔۔جبکہ وائس چیرمین عبدالقدیربزدار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئیکہا کہ وزیراعلی پنجاب نے پہلے اوپن میرٹ پہ پڑھنے والوں کیلیے 2018 میں مفت تعلیم دینے کیلیے یونیورسٹی کو خط جاری کیا لیکن یونیورسٹی نے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینکا اسے کوئی اہمیت نہیں دی اور اب تو مختص نشستوں پر بھی فیس پالیسی لاگو کرکے سراسر طلبا پرظلم کیا ہے اور بلوچ وپشتون طلبا کے ساتھ سراسرناانصافی ہے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مختص نشستوں پرسکالرشپ بحال کرے انہوں نے سجاگ نیوز کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ ابھی تک یونیورسٹی انتظامیہ نے کوئی بیٹھک نہیں کی البتہ سکیورٹی آفیسر نے کیمپ اکھاڑکرایف آئی آر کاٹ کر جیل میں ڈالنے کی دھمکی ضروردی منور بزدار نے سجاگ نیوزسے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلوچ طلبا کیساتھ سراسرناانصافی ہے ہم گورنمنٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ناانصافی کا ازالہ کرے اظہرلغاری نے سجاگ نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی سہولیات کی کمی کی وجہ سے وفاقی حکومت نے ایک منصوبے کے تحت بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کوکم کرنے کیلیے پنجاب میں نشستیں مخصوص کیں اور اوپن میرٹ پربھی مفت تعلیم دینیکی سہولت دی گئی مگر یکے بعددیگرے یہ سہولت بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی طرف سے ختم کی گئی انہوں نیحکومت سے مطالبہ کرتیہوئیکہا کہ وہ فوری طور پرپرانی پالیسی بحال کرے تاکہ ہمارے نئے آنیوالے طلبا اپنے سیشن کا آغاز کرسکیں واضح رہے احتجاجی کیمپ میں موجودطلبا نے”بلوچستان کو تعلیم دو، تعلیم دشمن پالیسی ختم کرو اور سکالرشپ بحال کرو“ کے بینرے اٹھائے ہوئے تھے اور انہوں نے تمام طلبا تنظیموں، کونسلوں اور میڈیا کاشکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی آواز اور مطالبات کی حمایت کی اور مقتدر حلقوں تک ان کی آواز پہنچانے کی کوشش کی۔


