بلوچستان کے معاملات کو طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا ، حاجی لشکری رئیسانی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنمانوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے معاملات کو طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا ، موجودہ حکومت کو صوبے کے معاملات پر خاموش رہنے کیلئے انعام میں حکومت سے نواز ا گیا ہے ،حیات بلوچ کے واقعہ پر وفاقی جماعتوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا نہ ان کی توجہ صوبے کے معاملات پر ہے، صوبے کے لوگ باوقار بلوچستان کیلئے ایک منظم جدوجہد کا آغاز کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز تحریک بحالی بی ایم سی کے ملازمین اور طلبہ کے تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ تعجب ہے وٹس ایپ گروپس میں بلوچستان کے معاملات کو دیکھنے کے دعویدار وزیراعلیٰ کو کیوں بلوچستان کے مسائل اور بے چینی دیکھائی نہیں دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کے پاس ختیار نہیں ہے انہیں اقتدار بطور انعام بلوچستان کے مسائل پر خاموش رہنے کیلئے دیا گیا ہے تاکہ بلوچستان میں پائی جانیوالے مایوسی اور بے چینی کو طاقت کے ذریعے ختم کیا جائے جو ممکن نہیں ہے سازشیں کرنے والی سلیکٹڈ صوبائی حکومت کی ڈوریں ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جو انہیں منتخب کراکے اقتدار میں لائے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے کئی معاملات بشمول حیات بلوچ کی شہادت کے واقعہ سے بلوچستان حکومت نے انکار کرکے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ لوگ صوبے کے نمائندہ نہیں ہیں جبکہ وفاقی جماعتوں نے بھی بلوچستان کے مسائل سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حیات بلوچ کے واقعہ پر وفاقی جماعتوں نے سنجیدگی سے بات نہیں کی نہ ان کی توجہ بلوچستان کے مسائل پر ہے ۔ بلوچستان کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ وفاق کی جماعتوں اور حکمرانوں کے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں ایک منظم قومی جدوجہد کا آغاز کریں ۔ نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کی حقیقی سیاسی جماعتیں حکومتی سازشوں کیخلاف متحدہوکر ان سازشوں کا مقابلہ کرکے ایک باوقار بلوچستان کی جدوجہد کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں