شاہینہ شاہین بلوچ کے قاتل کو جلد از جلد سزا دی جائے،کولیشن فار ویمن ان جرنلزم
کوئٹہ:کولیشن فار ویمن ان جرنلزم (سی ایف ڈبیو آئی جے)نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی بولان)کی اینکر شاہینہ شاہین بلوچ کے قتل کی تحقیقات جلد از جلد کرکے قاتل کو سزا دی جائے۔بلوچستان کے ضلع تربت میں 5 ستمبر کو ٹی وی اینکر اور بلوچی میگزین کی ایڈیٹر شاہینہ شاہین بلوچ کو قتل کر دیا گیا۔ سی ایف ڈبیو آئی جے کے بیان میں کہاگیاہے کہ خاتون صحافی کے شوہر نے اس پر دو مرتبہ گولی فائر کی۔کولیشن فار ویمن ان جرنلزم کے بیان کے مطابق سی ایف ڈبیو آئی جے پاکستان میں خاتون صحافی کے قتل پر مشتعل ہے۔ گزشتہ 10 ماہ کے دوران ملک میں دوسری مرتبہ کسی خاتون صحافی کو قتل کیا گیا۔تربت پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خاتون صحافی کے ماموں امجد رحیم نے شاہینہ کے شوہر مہراب گچکی کیخلاف مقدمہ درج کروایا ہے۔بیان میں لکھا ہے کہ پی ٹی سی ایل کالونی میں اپنے ماموں کی رہائش گاہ پر شاہینہ کو قتل کرنے کے بعد محراب گچکی نے اپنی اہلیہ کو گاڑی میں بٹھا کر اسپتال منتقل کیا اور اپنی گاڑی چھوڑ کر موقع سے فرار ہوگیا۔ یہ تمام معلومات ضلع کیچ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس نجیب پنجرانی نے پریس ریلیز میں شیئر کی۔پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے تربت بھر کی تمام چوکیوں کو الرٹ کر دیا ہے۔اسٹوری پر رپورٹنگ کرنے والی سی ایف ڈبلیو آئی جے کی ممبر ماریہ میمن نے ایس پی تربت سے بات کی، جس نے انہیں بتایا کہ شاہینہ کے شوہر نے ہی اسے قتل کیا۔ دونوں نے کورٹ میرج کی تھی۔ اگرچہ اطلاعات کے مطابق یہ غیرت کے نام پر قتل کا معاملہ لگتا ہے لیکن پولیس نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی کیوں کہ پولیس فی الحال قتل کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔سی ایف ڈبلیو آئی جے نے کہا کہ شاہینہ کے مجرم کو کسی بھی قیمت پر نہیں بخشا جانا چاہئے۔ انہوں نے صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے فعال طور پر مہم چلائی۔شاہینہ کے قتل کو غیرت کے نام پر قتل سے جوڑنا بلوچستان میں کام کرنے والی خواتین صحافیوں کے لئے ایک خطرناک مثال ہے، جہاں آزادی صحافت اور مختلف مواقع پر خواتین کے حقوق کی پامالی جاری ہے۔سی ایف ڈبلیو آئی جے کی بانی ڈائریکٹر کرن نازید کہتی ہیں کہ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر خاتون صحافی کا قتل ہوا ہے جبکہ مجرم اس کا شوہر ہے اور یہ ایک ایسے صوبے میں ہوا ہے جہاں سیکیورٹی ایجنسیاں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہیں۔


