نوٹیفیکشنز مبہم، کسی مذاکراتی جھانسے میں نہیں آئینگے، حکومت ایکٹ میں ترمیم کرے، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

کوئٹہ (انتخاب نیوز)بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہاہے کہ اس بر ہم کسی مذاکراتی جھانسے میں نہیں آئینگے حکومت وقت ضائع کئے بغیر یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کریں۔ حکومت نے ہر دفع مذاکرات کے نام پر دھوکہ دیا جھوٹے دعوؤں کے ذریعے طلباء اور ملازمین کو احتجاج سے اٹھایاگیا مسائل کے حل کیلئے کبھی کوششیں نہیں کی گئیں ان خیالات کااظہارانہوں نے بھوک ہڑتالی کیمپ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز مذاکرات کے بعد پروپیگنڈہ کیاگیا کہ بی ایم سی کے مسائل حل کردیئے گئے ہیں جس کے بعد کچھ دوستوں نے احتجاج ختم کیا لیکن ہمارے چار کارکن اب بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ بولان میڈیکل کالج کا مسئلہ جوں کا توں ہے دونوں نوٹیفکیشنز میں ابہام ہیں قانون سازی کے بغیر بولان میڈیکل کالج کی سابقہ حیثیت کسی صورت بحال ہی نہیں ہوسکتی۔گورنر ہاؤس کے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر ڈسپیچ نمبر تک نہیں اس میں فیصلے نہیں تجاویز دی گئی ہے جو ہمارے کسی مسئلے کا حل نہیں کالج کو یونیورسٹی کا حصہ بتایاگیا ہے لیکن ہم کالج کا یونیورسٹی کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں داخلہ پالیسی بھی یونیورسٹی کے ماتحت ہے جس میں ڈویژنل کوٹہ کو سبوتاژ کرکے صوبائی میرٹ کا انتخاب کیاگیا ہے یہ ہمارے مسائل کا حل نہیں ہے۔ہمارے مسائل کا حل صرف ایکٹ میں ترمیم کرنا ہے حکومت مذاکرات میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ایکٹ میں ترمیم کرے اس بار ہم کسی مذاکراتی جھانسے میں نہیں آئینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں