بلوچستان کابینہ کا اجلاس، خود مختار مائننگ لیز کے لیے منرل رولز 2002 میں ترمیم کی منظوری
کوئٹہ :وزیراعلئ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت صوبائ کابینہ کا اجلاس۔کابینہ اجلاس کے ایجنڈہ میں24نکات شامل ہیں۔کابینہ نے بلوچستان بونڈڈ لیبر سسٹم بل 2020 کے ترمیمی مسودے کی منظوری بھی دے دی ہے۔۔کابینہ نے بلوچستان ایپملائمنٹ آف چلڈرن (پروہیبیشن اینڈ ریگولیشن)بل 2020 کے مسودہ کی منظوری بھی دے دی۔۔کابینہ نے جبر ی مشقت کے خاتمے اور جبری مشقت کے شکار افراد کی بازیابی اور بحالی کے بل 2020 کی منظوری بھی دی۔۔ترمیم کے تحت جبری مشقت لینے والوں کو ایک سال کی سزا اور ایک لاکھ تک جرمانہ ہو گا۔جبری مشقت کے ترمیمی بل کے تحت ضلع کی سطح پر ویجیلنس کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔کابینہ نے بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن 2019 اور بلڈنگ کوڈ آف پاکستان کے ترمیمی مسودہ کی منظوربھی دی۔ترمیم کے تحت بلوچستان بلڈنگ آرڈیننس 1979 کوئیٹہ میں بھی لاگو ہو گا۔کابینہ نے صوبے کی دو معدنی کمپنیوں بی ایم آر ایل اور بی ایم ای سی کو مزید فائدہ مند بنانے کے لیۓ بلوچستان منرل رولز 2002 میں مجوزہ ترمیم کی منظوری دی۔ترمیم کے تحت دونوں کمپنیاں خود مختار حثیت سے مائننگ لیز لے سکیں گی۔کمپنیاں معدنی زخائیر کی تلاش و ترقی میں نجی شعبہ کے ساتھ شراکت داری بھی کر سکیں گی۔مستقبل میں دونوں معدنی کمپنیوں کو سٹاک ایکسچینج میں ان لسٹ کیا جاۓ گا۔کابینہ اراکین کا معدنی کمپنیوں کے قیام پر اظہار مسرت۔وزیراعلئ کے وژن کی تعریف کی۔کابینہ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانوں کی شرح میں اضافے کی منظوری بھی دے دی


