کوئٹہ،سانحہ موٹروے اور شاہینہ شاہین کے قتل کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

کوئٹہ:بلوچستان میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے لئے سرگرم تنظیموں کے رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومت موٹروے پر ہونے والے واقعہ اور بلوچستان کی سماجی ورکر شاہینہ شاہین کے قتل میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، خواتین و بچوں کی تحفظ کے لئے موثر اقدامات اٹھائے بغیر ایسے بھیانک حادثات کا روکنا ممکن نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کی جلیلہ حیدر ، فرخندہ اسلم ، وومن ایکشن فورم کی ہما فولادی ، عوامی یکجہتی محاذ کی کنزافاطمہ و دیگر نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے موٹروے واقعہ اور شاہینہ شاہین کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں خواتین اور بچوں کے حقوق کی پامالیوں کا نہ ختم کرنے والا سلسلہ جاری ہے آئے روز خواتین ، معصوم بچوں اور خواجہ سراہوں کے ساتھ جنسی زیادتی ، تشدد ، انہیں قتل یا پھر ہراساں کرنے کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں ، میڈیا پرا یسے واقعات کی خبریں نشر ہونے کے باوجود بھی ان کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات نہیں اٹھائے جاتے یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے واقعات تھمتے نہیں اور خواتین کی عزت و آبرو محفوظ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور اینکر شاہینہ شاہین کو قتل کردیا گیا ہے موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے ایسے واقعات سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج خراب ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔ حکومت اور متعلقہ حکام ایسے عناصر کو گرفتار کرکے نشان عبرت بنائیں تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات رونما نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں