کٹھ پتلی حکومت ملک کی معاشی اور نظریاتی قاتل ہے،مولانا واسع

کو ئٹہ;جمعیت علما اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلس عاملہ اور پارلیمانی گروپ کا مشترکہ اجلاس صوبائی سیکرٹریٹ چمن ہاسنگ سکیم میں زیر صدارت صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الواسع منعقد ہوا جورات گئے تک جاری رہا، جس میں صوبائی جنرل سیکرٹری رکن قومی اسمبلی مولانا سید آغا محمود شاہ، سرپرست اعلی سابق صوبائی امیر سینیٹر مولانا فیض محمد کے علاوہ اراکین عاملہ وپارلیمانی گروپ نے شرکت کی اجلاس میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کادورہ بلوچستان سمیت عوامی اور جماعتی امور پر اراکین کی آرا و تجاویز کی روشنی میں متعدد فیصلے ہوئے جوسرکلر کے ذریعے تمام ماتحت جماعتوں کو ارسال کیئے جائیں گے، سینٹ الیکشن میں جمعیت علما اسلام کے امیدوار کی حمایت کرنے والے اراکین اسمبلی کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الواسع نے کہا کہ ترقی یافتہ اور خوشحال بلوچستان بنانے کیلئے جمعیت ہی عوام کی امیدوں کا مرکز ہے آنے والا دور ہمارے عوامی سمندر کا ہوگا جو نااہلوں کو بہاکر لے جائے گا انہوں نے کہا کہ نااہل اور بے اختیار حکومت نے تمام شعبوں کو تباہ وبرباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، جمعیت علما اسلام واضح اور شفاف پالیسی کے تحت سیاست کرنے پر عوام نے دل وجان سے قبول کیا ہے بلوچستان کی سطح پر جمعیت علما اسلام کی عظیم الشان پروگراموں کا سلسلہ جاری ہوچکا ہے جو صوبے میں انقلاب کی نوید ثابت ہوگا انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام دستور اور نظم کی پابند جماعت ہے جس کی رو سے ہر رکن جماعتی اداروں کو جوابدہ ہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام میں عنقریب شمولیت کاسلسلہ بھی شروع ہو جائے گا جن پارٹیوں نے عوام کو سبزباغ دکھایا تھا وہ برسرِ اقتدار آکر نہ صرف فیل ہوئے بلکہ ملک وقوم کے استحصال کے سبب بن گئے انہوں کہا کہ اس نازک صورتحالمیں جہاں تمام ادارے دیوالیہ ہوچکے ہیں عوام پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ سرکاری میڈیا اور سرکاری وزرا کی بہکی باتوں میں آنے کی بجائے ملک وملت کی فکر کرتے ہوئے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی بصیرت افروز اور جرائت مندانہ سیاست کا ساتھ دینا ہوگا ورنہ ملک مزید تباہی کی طرف چلا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ملک کے اندر اسلام اور ملک مخالف لوگ ہماری تہذیب واقدار کو نقصان پہنچانے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب خون پسینے سے ملک کی خدمت کرنے والے آج بھی استحصال کا شکار ہیں، بلکہ روزگار چھین جانے سے خودکشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو قومیں سیاسی شعور کی روشنی میں فیصلہ کرنا جانتی ہوں وہ اپنی آزادی کی حفاظت بھی خوب کر سکتی ہیں۔ اور پاکستان کو ایک فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قوم کو بیدار کریگی جمعیت علما اسلام سمجھتی ہے کہ یہ کٹھ پتلی حکومت ملک کی معاشی اور نظریاتی قاتل ہے اس حوالے سے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی نظریے کی حفاظت کے لیے اپنا کردار اداکریں کیوں کہ اس وقت تک ہماری پالیسی پر امریکی و بیرونی سامراج کا دبا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہماری آج کی جدوجہد سے ہی ہماری کل آنے والی نسل سکھ کا سانس لے پائیگی کیونکہ جمعیت علما اسلام ملک میں حقیقی آزادی کے تصور کے ساتھ قوم کو لائحہ عمل دے کر آزادی کے نصب العین حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی انہوں نے کہا کہ آزادی کے مقاصد کے حصول کیلئے ہماری جدوجہد جاری ہے دو قومی نظریہ اور اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلامی شعائر کی حفاظت کیلئے جمعیت علما اسلام کے کارکنوں اور قائدین نے قربانیوں کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور جمہوری انداز میں رہنے کیلئے عوام کو شرافت کی سیاست سے روشناس کرایا جمعیت علما اسلام نے پاکستان میں دلیل اور پرامن سیاست کے فروغ کیلئے جو وصول متعارف کروائے وہ تمام جماعتوں کیلئے مشعل راہ ہے انہوں کہا کہ ہرقسم حالات میں جمعیت کی جدوجہد کا بہار زندہ رہے گا قیام سے لے کر آج تک جماعت نے اور کھٹن راستوں پر سفرجاری رکھا ہے لیکن بدقسمتی سے جمعیت علما اسلام اور عوام کے درمیان دوری پیدا کرنے کیلئے ہردور میں نت نئے حربے استعمال کیے گئیجوکہ ناکامی سے دوچار ہوئے انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام آئین اور جمہوریت کی پاسدار ہونے کے ناطے تمام تر ناانصافیوں اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود ملک کے کروڑوں محکوم اور مظلوم عوام کو امن آئین اور جمہور کادرس دے رہی ہے انہوں نے کہا کہ نامعلوم عناصر کی تمام تر چیرہ دستیوں کے باوجود ملک کے استحکام وسلامتی کیلئے ہراول دستہ کردار ہمارا ہوگا، انہوں نے کہاحالات کی نزاکت کے پیش نظر ہماری جدوجہد سے عوام کو سکھ ملے گا بلوچستان میں جمعیت علما اسلام ہی عوام کی نمائندہ جماعت ہے جو ہر مشکل میں عوام کی آواز اور ترجمان ہے اور مستقبل جمعیت علما اسلام ہی کا ہے ضروری ہے کی جمعیت علما اسلام کی ماتحت تنظمیں عوامی حلقوں کے مسائل کو اٹھاکر ان کے ساتھ گھل مل جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں