مشترکہ اجلاس میں بلز کو پاس کرنے کیلئے تمام رولز کو پاوں تلے روند کر پارلیمان کی توہین کی گئی، سر دار یعقوب نا صر

لورالائی: مسلم لیگ ن کے مرکزی سینئر نا ئب صدر سینٹ کے سیٹنڈنگ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ کے چیئرمین سینیٹر سردار محمد یعقوب خان ناصر نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بلز کو پاس کرنے کیلئے تمام رولز کو پاوں تلے روند کر پارلیمان کی جو توہین کی گئی اسکی ملکی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی اپوزیشن کی اکژیت کو جان بوجھ کر اقلیت میں تبدیل کیا گیا انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر رولز کو نظرانداز کرتا رہا اجلاس میں غیر نمائندوں مشیروں کو بھی ووٹ کا حق دیا گیا جسپر ہم نے بھر پور احتجاج کیا کہ دوبارہ گنتی کی جائے لیکن ہماری کوئی بات نہیں مانی گئی انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے جانب سے طلب کی گئی اے پی سی اجلاس جو بیس ستمبر کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے اسمیں اس ایجنڈے کو بھی زیر بحث لایا جائیگا انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ڈکٹیشن پر اسپیکر قومی اسمبلی کو چلا رہے ہیں جسکی مذمت کرتا ہوں ملک میں ائین قانون اور پارلیمان کی بالادستی کی باتیں کرنے والوں نے آج تمام حدود کو نظر انداز کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ عوام پر ایک مرتبہ پھر بجلی کے نرخ کو بڑہانے کی تیاری ہو رہی ہے ماضی میں بجلی کے بلز کو جلسوں میں آگ لگانے والے وزیر اعظم ہر تین ماہ بعد بجلی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ائی ایم ایف کے کہنے پر اضافہ کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ آج ملک شدید مہنگائی کی لپیٹ میں ہے کسی انسان کی عزت و آبرو محفوظ نہیں ہے سرعام شاہراہوں پر خواتین کی عزتوں کو لوٹا جارہا ہے قوانین کو مزاق بنا دیا گیا ہے لاہور کے سی سی پی او کچھ کہتے ہیں اور وفاقی وزراء کچھ اور کہتے ہیں حکومت کی کوئی رٹ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس پالیسی ہے ہماری خارجہ پالیسی نہ ہونے کے برابر ہے تمام ہمسائیہ ممالک ہم سے کوئی زیادہ خوش نہیں ہیں کشمیر پر ہماری آواز کمزور تر ہوتی جارہی ہے ملک میں بے روزگاری کے بڑ نے سے نوجوان تعلیم یافتہ افراد خود کشیوں پر یا پھر بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کئی پر ہمیں نظر نہیں ارہی ہے کراچی پانی میں ابتک ڈوبا ہوا ہے لیکن وفاق اور سندھ کی حکومتیں آپس میں لڑ رہے ہیں اور بیان بازی کے تیر ایک دوسرے پر مارے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی گرفت اتنی ڈھیلی ہوتی جارہی ہے کہ ملک میں کئی قانون کی گرفت کہیں پر نہیں لاگو نہیں ہے جس کا جو جی چاہے وہ کرتا پھر رہا ہے ملک کو کمزور کرنے کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں نئے الیکشن ضروری ہیں حکومت کے خلاف عدم اعتماد اور عوامی تحریک کے زریعے حکومت کا چلتا کرنے سمیت دیگر ایشوز پر اے پی سی رہنماء اپنے اجلاس میں اہم فیصلے کرنے جارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں