ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد باعث تشویش ہے،گورنر
کو ئٹہ:گورنربلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے صوبے میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد باعث تشویش ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے سے سالانہ دہشتگردی سے جتنی اموات ہوتی ہیں اس سے زیادہ لوگ ٹریفک حادثات میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں. انہوں نے کہا کہ صرف بلوچستان میں سالانہ تقریبا چھ ہزار افراد سڑکوں کے حادثات میں مر جاتے ہیں جو ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ لہذا تمام متعلقہ محکموں کو ایک جامع اور مربوط حکمت عملی وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔یہ بات انہوں نے قومی شاہراہوں پر حادثات میں کمی لانے اور روڈ سیفٹی اصلاحات کے حوالے سے جنرل منیجر آغا عنایت اللہ اور ڈی آئی جی موٹر وے پولیس علی شیر جکھرانی کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر کئی. ملاقات میں صوبائی ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ عبدالقادر پرکانی اور سیکرٹری آر ٹی اے بشیر بنگلزئی بھی موجود تھیں. بریفنگ کے دوران گورنر بلوچستان نے کہا کہ قومی شاہراہوں اور پلوں کی تعمیر میں بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنے پر بھرپور توجہ دی جائے کیونکہ اس سے ہماری آنے والی نسلوں کے مفادات بھی وابستہ ہیں. انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ تمام شہریوں کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی اس کیلئے بھرپور عوامی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی خستہ حالی سے متعلق عوامی شکایات کا ازالہ کیا جائے اور تیزرفتاری اوورلوڈنگ ،اوورٹیکنگ، کم عمر ڈرائیورز اور گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون استعمال کرنے والوں کے خلاف فوری اور بروقت اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ صوبے کی شاہراہوں پر ہونے والے ٹریفک حادثات کی روک تھام ممکن ہوسکیں. بریفنگ کے دوران یہ بھی طے پایا کہ اس ضمن میں متعلقہ وفاقی وصوبائی محکموں اور اداروں سے فوری رابطے کیے جائینگے۔


